کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے گل پلازہ سانحے کے 200 متأثرین میں چیک تقسیم کردئیے۔ 4 سے 5 جاں بحق افراد کے ورثاء تاحال نہیں مل سکے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گل پلازہ سانحے کے متأثرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ جس روز گل پلازہ سانحہ ہوا، اس روز میں کراچی میں موجود نہیں تھا۔ سانحے میں جانی نقصان پر افسوس ہے۔ کے سی سی آئی کے مطابق گل پلازہ میں 1209 دکانیں تھیں۔
خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متأثرین کی بحالی ہماری ذمہ داری ہے۔ گل پلازہ کے متأثرین تنہا نہیں۔ سندھ حکومت بھرپور ساتھ دے گی۔ سانحہ گل پلازہ کے متأثرین کو تصدیق کے بعد امداد دی جارہی ہے۔ متاثرین کی بحالی کیلئے کراچی چیمبر نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سانحے میں میری غلطی ہے یا کسی اور کی، وہ سامنے آجائے گا۔ جوڈیشل کمیٹی کی رپورٹ پڑھی، 90 فیصد باتیں وہی ہیں جو ہم نے شروع میں کہا تھا۔ ہم پر بہت تنقید ہوتی ہے جس میں جائز باتیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی تکلیف میں ہوتا ہے تو وہ تنقید بھی کرتا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل انکوائری کرائی جائے گی۔ جوڈیشل انکوائری کرائی گئی اور کابینہ میں پیش بھی ہوئی۔ انکوائری رپورٹ کی سفارشات کیلئے کمیٹی بنائی گئی۔ کمیٹی کی سفارشات آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش ہوں گی۔ سانحہ گل پلازہ میں لوگوں کی ساری زندگی کی کمائی ختم ہوگئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








