تہران: ایران نے امریکا کو جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے نئی تجویز پیش کی ہے۔ تجویز کے تحت جوہری مذاکرات فی الحال مؤخر کرنے کا چیلنج بھی سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کا ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کا خاتمہ کرنا ہے جبکہ ایرانی قیادت تاحال جوہری پروگرام پر امریکا کو رعایتیں دینے کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا نہیں کرسکی۔
ایگزیوس کے دعوے کے مطابق ایران کی تجویز ہے کہ اگر فی الحال جوہری معاملہ مذاکرات سے الگ کردیا جائے تو دونوں ممالک تیز رفتار معاہدہ کرسکتے ہیں، تام مبصرین کا ماننا ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے کی صورت میں صدر ٹرمپ وہ دباؤ کھو بیٹھیں گے جو وہ ایران پر معاہدہ کرنے کیلئے ڈالتے ہیں۔
توقع کی جارہی ہے کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اعلیٰ قومی سلامتی و خارجہ پالیسی مشیروں کے ہمراہ ایران کی نئی تجویز پر غور کرنے کیلئے اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جس کے دوران امریکا ایران مذاکرات میں جاری جمود اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر گفتگو ہوگی۔
اتوار کے روز کی گئی فاکس نیوز کے ساتھ گفتگو میں امریکی صدر اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے حق میں ہیں جس کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات متأثر ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی بھاری مقدار سسٹم میں ہو اور جہازوں میں نہ ڈالی جاسکے تو لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے۔ ایسا ہونے سے روکنے کیلئے صرف 3 روز کا وقت ہوتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








