سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے نیا نیوز ٹی وی سے اپنی وابستگی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ نیشنل پریس کلب میں منعقد ہونے والے ایک متنازع پروگرام کے بعد سامنے آیا جس پر میڈیا حلقوں کے اندر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
مطیع اللہ جان جو تحقیقاتی صحافت اور حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں نے 25 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کی کوریج کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کے لیے ایک عشائیہ ترتیب دیا تھا۔ اس تقریب پر اس وقت تنازع کھڑا ہوا جب پریس کلب انتظامیہ نے انہیں اسے ملتوی کرنے کی درخواست کی کیونکہ اسی مقام پر وزارت اطلاعات و نشریات کی ایک سرکاری تقریب بھی شیڈول تھی مگر یہ تقریب پھر بھی منعقد کی گئی۔
اس موقع پر صحافی اسد طور کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے میڈیا پر پابندیوں، صحافیوں کو مبینہ ہراسانی اور امان مزاری ایڈووکیٹ جیسے کیسز کا ذکر کیا جس میں انہوں نے آزادی اظہار پر سوالات اٹھائے بعد ازاں ان پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے یہ تقریب نیشنل پریس کلب کے نام سے منسوب کرکے کروائی اور مبینہ طور پر اس کا لوگو بھی استعمال کیا جبکہ ایک شیلڈ میں بھارتی پرچم کی موجودگی پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔
امریکی صحافی کیٹلین ڈورنبوس نے بعد میں کہا کہ انہیں اس تقریب میں مدعو کرکے غلط تاثر دیا گیا کیونکہ یہ ایک پروفیشنل نیٹ ورکنگ ایونٹ سے سیاسی تنقید کی نشست میں تبدیل ہو گیا۔
اس واقعے کے بعد مختلف حلقوں سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ حکومتی حامی افراد اور پریس کلب کے بعض عہدیداروں نے اس تقریب کو غیر اخلاقی اور پاکستان کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا جبکہ سوشل میڈیا پر #ShameOnMTJ جیسے ہیش ٹیگز بھی ٹرینڈ کرتے رہے۔ دوسری جانب مطیع اللہ جان کے حامیوں نے ان کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی گرفتاریوں، یوٹیوب چینلز کی بندش اور پیکا قانون کے تحت مقدمات جیسے معاملات پہلے ہی ریکارڈ پر موجود ہیں اس لیے ان مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا صحافت کا حصہ ہے۔
27 اپریل کو مطیع اللہ جان نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ان کا نیا نیوز ٹی وی کے ساتھ تین سالہ سفر اچانک ختم ہو گیا ہے اور انہوں نے ادارے کا شکریہ ادا کیا تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا استعفیٰ ذاتی فیصلہ تھا یا کسی دباؤ کے نتیجے میں دیا گیا۔ ان کا ذاتی یوٹیوب چینل مطیع اللہ جان ٹی وی بدستور فعال ہے۔
یہ تنازع نیشنل پریس کلب میں جاری دیرینہ کشیدگی کو بھی نمایاں کرتا ہے جو ماضی میں سیاسی سرگرمیوں، پریس کانفرنسوں اور احتجاجی اجتماعات کا مرکز رہا ہے۔ بعض ناقدین نے اس واقعے کو ادارے کے لیے نقصان دہ قرار دیا جبکہ حامیوں کے مطابق بین الاقوامی سامعین کے سامنے آزادی صحافت کے مسائل اٹھانا صحافتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
یہ پورا معاملہ پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں جاری اس تقسیم کو بھی ظاہر کرتا ہے جہاں ایک طبقہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو غیر ذمہ دارانہ سمجھتا ہے جبکہ دوسرا اسے صحافتی آزادی کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








