عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران تنازع پر جاری مذاکرات میں تعطل نے سپلائی کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطے سے تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے جس کے باعث سرمایہ کاروں اور مارکیٹ میں بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
برینٹ خام تیل کے جون کے سودوں کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے بعد 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ اس سے قبل کے سیشن میں بھی اس میں 6.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔
جون کا معاہدہ مسلسل نویں دن بھی بڑھوتری کے ساتھ آگے بڑھا اور اسی روز ختم ہو رہا ہے جبکہ جولائی کے زیادہ متحرک سودے 94 سینٹ یا 0.85 فیصد اضافے کے بعد 111.38 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سیشن میں 5.8 فیصد اضافے کے بعد مزید مضبوطی ظاہر کرتے ہیں۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے جون کے سودے بھی 63 سینٹ یا 0.59 فیصد بڑھ کر 107.51 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچے۔ اس سے پہلے کے سیشن میں یہ 7 فیصد اوپر گئے تھے اور نو میں سے آٹھ سیشنز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز تیل کمپنیوں سے گفتگو کی جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ طویل امریکی ناکہ بندی کے اثرات کو کم کرنے کے طریقوں پر بات کی گئی۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے اپنے نوٹ میں کہا کہ ایران تنازع کے جلد حل یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات فی الحال نہایت کم دکھائی دیتے ہیں۔
تیل کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب تنازع حل کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ دنیا کی تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
تہران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں اپنی شپنگ کے علاوہ تقریباً تمام بحری آمد و رفت کو محدود کر دیا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ مزید برآں اسی ماہ امریکا نے ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی بھی شروع کر دی۔
ذرائع کے مطابق سپلائی کے تناظر میں اوپیک پلس اتحاد جس میں اوپیک ممالک اور ان کے اتحادی شامل ہیں امکان ہے کہ اتوار کو تیل کی پیداوار میں یومیہ تقریباً 1 لاکھ 88 ہزار بیرل کا معمولی اضافہ منظور کرے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب متحدہ عرب امارات یکم مئی سے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے جس سے اس تنظیم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ اس علیحدگی کے بعد یو اے ای کو پیداوار بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق رواں سال اس کے اثرات محدود رہیں گے۔
ووڈ میکینزی کے تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک بشمول یو اے ای کو جنگ سے پہلے کی سطح پر تیل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








