ذہنی فٹنس کے بغیر میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ناممکن! میڈیکل طلبہ کیلئے نئی شرط

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ طلبہ میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحانات اور شدید ذہنی دباؤ کے پیش نظر منظم ذہنی صحت اسکریننگ پروٹوکول فوری طور پر نافذ کریں۔

اپنے بیان میں کونسل نے تمام تعلیمی اداروں کو واضح کیا ہے کہ طلبہ اور فیکلٹی کی ذہنی صحت کا تحفظ اور بہتری انتہائی اہم ہے کیونکہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کا تعلیمی ماحول نہ صرف سخت ہوتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی کافی دباؤ والا ہوتا ہے۔

بیان کے مطابق تمام اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقاعدہ اسکریننگ سسٹم نافذ کریں تاکہ ذہنی مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کا حل ممکن بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور مجموعی ذہنی فلاح کو بھی یقینی بنانا ہے۔

ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ذہنی صحت کی اسکریننگ دو اہم مراحل پر کی جائے گی۔ پہلا مرحلہ داخلے کے وقت ہوگا تاکہ ابتدائی مسائل کی نشاندہی ہو سکے جبکہ دوسرا مرحلہ سالانہ بنیادوں پر ہوگا جو انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور فیکلٹی ممبران سب کے لیے لازمی ہوگا۔

پی ایم ڈی سی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس عمل میں صرف مستند اور معیاری اسیسمنٹ ٹولز استعمال کیے جائیں۔ مزید یہ کہ جن افراد میں ذہنی دباؤ یا مسائل کی نشاندہی ہو انہیں فوری طور پر شعبہ نفسیات (Psychiatry Department) کے حوالے کیا جائے تاکہ مکمل تشخیص، علاج اور مسلسل فالو اپ ممکن ہو سکے۔

کونسل نے یہ بھی لازمی قرار دیا ہے کہ تمام ادارے ایک مکمل فعال شعبہ نفسیات اور علیحدہ کونسلنگ سیل قائم کریں تاکہ طلبہ اور عملے کو فوری اور موثر ذہنی صحت سہولت فراہم کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شعبہ مناسب عملے اور سہولیات سے لیس ہونا چاہیے تاکہ رازداری کے ساتھ پیشہ ورانہ مشاورت، نفسیاتی مدد اور بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ پی ایم ڈی سی نے واضح کیا کہ ذہنی دباؤ کی روک تھام اور اس کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

کونسل کے مطابق منظم اسکریننگ اور مؤثر کونسلنگ سسٹم نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ مستقبل کے ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔

تمام اداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف میڈیکل یونیورسٹیز میں طلبہ کی خودکشی کے افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

Related Posts