پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ جنوبی ایشیائی ممالک کے علاوہ دنیا کے کسی بھی براعظم میں مزدوروں کو جتنے مشکل حالات کا سامنا آج ہے، شاید ماضی میں کبھی نہ تھا۔
تفصیلات کے مطابق مزدوروں کا عالمی دن وہ واحد دن ہے جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب، رنگ و نسل اور ملک مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں، لیکن مزدور یہ چھٹی نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ یہ ایک چھٹی ان کے خاندان پر بھاری پڑ سکتی ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث مزدور شخص جو کماتا ہے، اس ایک روز میں ہی وہ سب خرچ ہوجاتا ہے اور طبی مسائل یا مہنگائی کے باعث کچھ خریدنے کیلئے جو قرض لیا گیا ہو، اس کا بوجھ اتارنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو لیبر قوانین کے تحت فیکٹریوں اور اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن اور ان کا ریکارڈ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہونا ضروری ہے، تاکہ ان کے سوشل سیکیورٹی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے فوائد کو یقینی بنایا جائے تاہم ایسا نہیں کیاجاتا۔ ۔
تکلیف دہ حقیقت تو یہ ہے کہ مزدوروں کی بڑی تعداد اب تک رجسٹرڈ نہیں، جنہیں رجسٹر کرنے اور کم از کم اجرت کا ازسر نو جائزہ لے کر اس کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ ای او بی آئی میں رجسٹرڈ مزدور صرف 18 لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔
دوسری جانب نومبر 2025 میں جاری کیے گئے لیبر فورس سروے کے نتائج میں بتایا گیا کہ پاکستان کی لیبر فورس 7 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ملک بھر میں تقریبا 80 لاکھ افراد بےروزگار ہیں۔گزشتہ 4سال میں 62 فیصد اضافے کے ساتھ اوسط ماہانہ اجرت 40ہزار کو بھی چھو نہیں سکی۔
غور کیا جائے تو یہ 40ہزار کی اجرت اتنی کم ہے کہ اس سے روز کے اخراجات پورے کرنا انتہائی دشوار ہے اور اگر مزدور بے گھر بھی ہو اور اس کا خاندان کرائے پر گھر لے کر رہنا چاہے تو اس 40ہزار سے کم اجرت میں ان کا گزارہ اتنا مشکل ہوسکتا ہے کہ اس کا تصور بھی محال ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








