پاکستان نے ترکیہ، برازیل، اردن سمیت دیگر 10 ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کی جانب سے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے اور اس کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی سخت مذمت کی اور اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
جمعہ کی صبح جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں پاکستان، ترکیہ، برازیل، اردن، اسپین، ملائیشیا، بنگلہ دیش، کولمبیا، مالدیپ، جنوبی افریقہ اور لیبیا کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی طرف روانہ ہونے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی اقدام کو “حملہ” قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی۔
اس قافلے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن شامل تھے، جو غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اور وہاں جاری انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کے مقصد سے روانہ ہوئے تھے۔ منتظمین کے مطابق یہ قافلہ بین الاقوامی سمندری حدود میں موجود تھا جب اسرائیلی فورسز نے اسے روکا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ فلوٹیلا مکمل طور پر پرامن اور شہری نوعیت کا انسانی ہمدردی پر مبنی مشن تھا، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی المیے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣2️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Bangladesh, Brazil, Colombia, Jordan, Libya, Malaysia, Maldives, South Africa, Spain and Turkiye Regarding the Israeli Assaults on the Global Sumud Flotilla, 30 April 2026
🔗⬇️ pic.twitter.com/C2lzmPvE2i— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 30, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائی اور امدادی کارکنوں کی حراست بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ گرفتار افراد کی سلامتی اور تحفظ پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔مطالبہ کیا گیا کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری رہا کیا جائے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








