ایل این جی کی آمد، توانائی بحران میں ریلیف، پاکستان کی قطر سے 4 کارگو منگانے کی کوشش

تازہ ترین

تازہ ترین

ایل این جی
(فوٹو: وی نیوز)

تقریباً دو ماہ کے طویل وقفے کے بعد ایل این جی کی ایک نئی کھیپ کی آمد نے پاکستان کے توانائی نظام کو واضح سہارا دیا ہے، جب ایل این جی بردار جہاز سی پیک میگیلن پاکستان گیس پورٹ ٹرمینل پر پہنچا اور ری گیسفائیڈ قدرتی گیس کی ترسیل کا آغاز کیا۔ اس پیش رفت کے ساتھ حکومت نے قطر سے تاخیر کا شکار 4 ایل این جی کارگو منگانے کیلئے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ایل این جی لے کر آنے والا یہ جہاز پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ کے زیر انتظام ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا۔ یہ کارگو ٹوٹل انرجیز کے ذریعے 18.40 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر حاصل کیا گیا، جسے موجودہ عالمی توانائی مارکیٹ کے تناظر میں ایک اہم انتظامی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

ری گیسفیکیشن کا عمل ابتدائی طور پر 50 ایم ایم سی ایف کی سطح سے شروع کیا گیا، جسے بعد میں بڑھا کر 260 ایم ایم سی ایف تک لے جایا گیا۔ اس مرحلے میں مائع گیس کو دوبارہ گیس کی شکل میں تبدیل کر کے قومی ترسیلی نظام میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ مختلف صارفین تک اس کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

حکام کے مطابق مجموعی سپلائی میں سے تقریباً 45 ایم ایم سی ایف گیس کے الیکٹرک کو فراہم کی جا رہی ہے جبکہ باقی مقدار سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے۔ اس تقسیم کا مقصد بجلی کی پیداوار اور گھریلو و صنعتی ضروریات کو متوازن رکھنا ہے۔

Related Posts