عدالتی فیصلے پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا؟ کانسٹیٹیوشن ایونیو کے غیر قانونی منصوبے کا مجرم کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں کو گزشتہ ہفتے رات گئے اس وقت اچانک اپنی رہائش گاہیں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا جب حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمارت خالی کرانے کی کارروائی شروع کی۔ بھاری پولیس نفری کی موجودگی اور کم وقت کے نوٹس نے اس آپریشن کو مزید غیر متوقع بنا دیا۔ اس صورتحال نے قانونی تنازع سے آگے بڑھ کر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ دو دہائیوں تک جاری رہنے والی ادائیگیوں کی ناکامی اور قانونی پیچیدگیوں کے بعد عام خریدار اور کرایہ دار اس صورتحال تک کیسے پہنچے۔

تفصیلات کے مطابق 2005 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 13.5 ایکڑ کا یہ پلاٹ بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کو ہوٹل منصوبے کے لیے لیز پر دیا تھا جو نیلامی کے ذریعے الاٹ کیا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ منصوبہ تبدیل ہو کر لگژری اپارٹمنٹس میں بدل گیا جس پر یہ سوالات اٹھتے رہے کہ آیا اس تبدیلی کے لیے تمام ضروری منظوری حاصل کی گئی تھی یا نہیں۔

سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق کمپنی تقریباً 20 سال تک اربوں روپے کی ادائیگیوں میں ناکام رہی۔ 2016 میں سی ڈی اے نے لیز منسوخ کر دی جسے بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تاہم 2019 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے لیز بحال کر دی مگر سخت شرائط کے ساتھ۔ عدالت نے حکم دیا کہ کمپنی 17.5 ارب روپے آٹھ سالانہ اقساط میں ادا کرے اور کسی بھی ڈیفالٹ کی صورت میں سی ڈی اے کو لیز ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔

اس فیصلے کے بعد منصوبہ جاری رہا اور مزید خریداروں اور رہائشیوں نے یہاں سرمایہ کاری کی تاہم رپورٹس کے مطابق کمپنی نے صرف پہلی قسط ادا کی جبکہ باقی اربوں روپے کی ادائیگیاں التوا کا شکار رہیں۔

2023 تک سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2019 کا فیصلہ عملی حالات کے باعث غیر موثر ہو چکا ہے اور کمپنی کی نظرثانی درخواست بھی مسترد کر دی گئی جس کے بعد سی ڈی اے کو زمین واگزار کرانے کا راستہ مل گیا۔

30 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی لیز منسوخی کو درست قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے کے موقف کو قانونی طور پر مضبوط کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد انتظامیہ نے عمارت خالی کروانے کی کارروائی شروع کی۔

عمل درآمد کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ پولیس کی نگرانی میں اہلکار مبینہ طور پر گھروں میں گئے اور رہائشیوں کو محدود وقت، بعض اوقات صرف 24 گھنٹے، میں عمارت خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس اچانک کارروائی نے متاثرہ خاندانوں میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی۔

سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے اس کارروائی کے طریقہ کار اور وقت پر سوالات اٹھائے ہیں اگرچہ قانونی طور پر یہ عدالتی فیصلے کے تحت کی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کارروائی کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا جہاں بعض افراد نے ریاستی رویے پر تنقید کی جبکہ کچھ نے اسے قانون کی عملداری قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس پورے منصوبے کی منظوریوں، مالی معاملات اور متاثرہ خریداروں کے حالات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

یہ کیس دراصل ایک پیچیدہ ذمہ داریوں کے سلسلے کو ظاہر کرتا ہے جس میں ڈویلپر، سی ڈی اے، عدالتی فیصلے اور خریدار سب کسی نہ کسی حد تک شامل ہیں۔ ڈویلپر پر بڑے پیمانے پر مالی اور قانونی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں جبکہ سی ڈی اے اور سابق انتظامیہ پر نگرانی میں غفلت کے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

اسی طرح سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے نے بھی بحث کو جنم دیا کیونکہ اس کے بعد مزید سرمایہ کاری ہوئی مگر بعد میں ڈیفالٹ نے صورتحال کو دوبارہ بحران میں بدل دیا۔ دوسری طرف عام خریدار اور کرایہ دار وہ فریق ہیں جو معلومات کی کمی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس معاملے کو بغیر شفاف حل کے چھوڑ دیا جائے تو یہ نہ صرف اداروں پر اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ مستقبل میں بھی ایسے منصوبوں کے لیے خطرناک مثال قائم کرے گا۔ اس لیے تجویز دی جا رہی ہے کہ اصل ذمہ داری ڈویلپر پر ڈالی جائے جبکہ متاثرہ رہائشیوں کے لیے متبادل اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے۔

یہ پورا معاملہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک عمارت یا ایک فیصلے کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا ہے جہاں دیرینہ خامیاں اور تاخیر شدہ فیصلے آخرکار عام لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔

Related Posts