اسلام آباد: پاکستان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا مؤقف پاک افغان سرحد کے زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا جبکہ افغانستان نے دہشت گردی بلاتعطل جاری رکھی ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کا مکمل عکاس نہیں۔ افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی اور دراندازی بلا تعطل جاری رہی ہے۔
بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ طالبان کی سرحد پار سے بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردی کے باعث 52 پاکستانی شہری شہید جبکہ 84زخمی ہوگئے۔ افغانستان نے شہری ہلاکتوں کے بے بنیاد اور غیر مصدقہ الزامات عائد کیے۔ ہم نے افغانستان سے دراندازی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دہشت گردی کی حقیقی وجوہات کو نظرانداز کرنا غیر متوازن مؤقف کا مظہر ہے، ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔عالمی برادری علاقائی صورتحال اور پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے۔
خیال رہے کہ پاکستان نے افغانستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے باعث آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا جس کے دوران متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، جس پر افغانستان کی طالبان حکومت مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتی آئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








