ملک کے معروف کوہ پیما ساجد علی سدپارہ نے نیپال میں واقع دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ماکالو (8485 میٹر) کو بغیر اضافی آکسیجن کے سر کر کے ایک اور بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے عالمی کوہ پیمائی میں ملک کا نام روشن کردیا۔
مہم کے منتظم ادارے سیون سمٹ ٹریکس کا کہنا ہے کہ ساجد سدپارہ نے 2 مئی کی صبح تقریباً پانچ بجے چوٹی پر قدم رکھا۔ اس مہم میں پاکستان سے ساجد سدپارہ کے علاوہ یوهانس لاؤ اور سات شیرپا پر مشتمل ٹیم شامل تھے، جنہوں نے انتہائی مشکل اور تکنیکی نوعیت کی اس مہم کو کامیابی سے مکمل کیا۔
ساجد سدپارہ اس وقت اپنے ایک اہم مشن پر ہیں جس کے تحت وہ دنیا کی 14 بلند ترین آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ چوٹیوں کو بغیر آکسیجن کے سر کرنا چاہتے ہیں۔ ماکالو سر کرنے کی یہ کامیابی اس سلسلے میں ان کی دسویں بڑی فتح ہے۔ وہ 4 اپریل کو نیپال پہنچے، 16 اپریل کو بیس کیمپ تک رسائی حاصل کی اور 25 اپریل کو سمٹ کی تیاری کا اہم مرحلہ مکمل کیا۔
وہ مشہور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ہیں، جو 2021 میں کے ٹو کی سرمائی مہم کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اپنے والد کے انتقال سے غمزدہ ہو کر بھی ساجد سدپارہ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام نمایاں انداز میں اجاگر کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








