اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایل این جی سپاٹ کارگوز کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ملک کی توانائی ضروریات پوری ہونے پر سوالات اٹھ گئے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خریداری سے گریز کا فیصلہ قطر سے سستی ایل این جی ملنے کی امید پر کیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان فیل ایحال ایل این جی سپاٹ کارگوز کی خریداری نہیں کرے گا، وفاقی حکومت نے قطر سے سستی ایل این جی ملنے کی توقع پر کم ترین بین الاقوامی بولیوں کو مسترد کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے تحت قطر پاکستان کو مزید سستی ایل این جی فراہم کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کو قطر سے 2 کارگوز ٹرم کنٹریکٹ ریٹ پر ملنے کی امید ہے جبکہ قطر نے کارگوز کی دستیابی کیلئے پاکستان کو مثبت اشارے دے دئیے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ قطر سے کارگوز آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان پہنچیں گے جس میں ایرانی حکومت بھی پاکستان سے تعاون کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق حکومت سستی درآمدی گیس کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور لاگت میں کمی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، قطر سے ایل این جی برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد نرخ پر ملنے کا امکان ہے جبکہ پاکستان کی ترجیح ایل این جی سپاٹ مارکیٹ کی بجائے طویل مدتی معاہدے ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








