حکومت نے ملک میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قومی سطح پر پبلک ہیلتھ قانون تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صحت حکام نے خاص طور پر غیر محفوظ طبی طریقوں پر تشویش ظاہر کی جن میں استعمال شدہ اور آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال شامل ہے جو پاکستان میں انفیکشن بڑھنے کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
فیصلہ وفاقی ایچ آئی وی/ایڈز ٹاسک فورس کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کی۔ اجلاس کے دوران حکام نے ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کا جائزہ لیا اور بیماری کی نگرانی کے نظام اور طبی شعبے کے ضوابط کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا۔
حکام کے مطابق اس ٹاسک فورس کا مقصد ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات کا جائزہ لینا صحت کے نظام میں موجود کمزوریاں سامنے لانا اور آئندہ ایسے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارشات مرتب کرنا ہے۔
اجلاس میں شریک افراد نے ملک کے مختلف حصوں میں غیر محفوظ انجیکشن کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی۔ ماہرینِ صحت کی بار بار تنبیہات اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے خلاف سرکاری مہمات کے باوجود یہ عمل اب بھی جاری ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں ایچ آئی وی کے کئی بڑے کیسز سامنے آ چکے ہیں خاص طور پر سندھ میں، جہاں صحت حکام نے متعدد انفیکشنز کی وجہ آلودہ سرنجیں، غیر رجسٹرڈ کلینکس اور انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات کو قرار دیا تھا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا جائے گا جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈیٹا کو آپس میں منسلک کرے گا تاکہ ایچ آئی وی کیسز کی نگرانی بہتر بنائی جا سکے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو۔
ٹاسک فورس نے یہ سفارش بھی کی کہ اسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز کی نگرانی مزید سخت کی جائے بعض طبی مراحل میں ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی قرار دی جائے اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
حکام کو ہدایت دی گئی کہ دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کی فروخت اور غلط استعمال کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کو سرکاری اور نجی طبی مراکز میں حفاظتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کا کہا گیا۔
ماہرینِ صحت طویل عرصے سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا دباؤ کا شکار طبی نظام کمزور نگرانی اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کا بڑھتا استعمال متعدی بیماریوں خصوصاً ایچ آئی وی/ایڈز، پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








