سانحہ 9 مئی؛ جب ریاستی اداروں پر حملے کیے گئے! آگ و خون کے کھیل کو 3 سال گزر گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سانحہ 9 مئی کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں جب 9 مئی 2023 کو پاکستان میں ایسے پرتشدد واقعات پیش آئے جنہیں حکومت نے سیاہ دن قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شروع ہونے والے احتجاج اچانک ہنگاموں اور پرتشدد کارروائیوں میں بدل گئے۔ ان واقعات کے دوران ریاستی و فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا کئی مقامات پر آتشزدگی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے اور مختلف شہروں میں سرکاری و عسکری املاک کو نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید بدامنی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

گرفتاری کے بعد احتجاج کیسے پرتشدد واقعات میں بدلا؟

عمران خان کو 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامی مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ابتدا میں شروع ہونے والے مظاہرے تیزی سے پرتشدد ہنگاموں میں بدل گئے جن میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ان واقعات کے نتیجے میں تقریباً 2.5 ارب روپے مالیت کا نقصان ہوا۔

جلاؤ گھیراؤ، اہم عسکری و سرکاری عمارتیں نشانہ

ان ہنگاموں کے دوران کئی اہم سرکاری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس)، اسلام آباد و راولپنڈی میں جی ایچ کیو، فیصل آباد میں آئی ایس آئی دفتر، چکدرہ میں ایف سی قلعہ، سوات موٹروے ٹول پلازہ اور میانوالی ایئر بیس شامل ہیں۔ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو بھی آگ لگا دی گئی جس کے نتیجے میں ایک ملازم شدید جھلس گیا۔

صحافیوں اور میڈیا ٹیموں پر حملے

تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے میڈیا نمائندے بھی محفوظ نہ رہے۔ احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور نیوز چینلز کی گاڑیوں پر پتھراؤ اور حملے کیے گئے۔ بعض صحافی زخمی ہوئے جبکہ نشریاتی آلات کو شدید نقصان پہنچا جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔

ریاستی مؤقف: منظم منصوبہ بندی کا الزام

پنجاب پولیس اور دیگر اداروں نے جیو فینسنگ اور تحقیقات کے بعد یہ موقف اختیار کیا کہ ان حملوں کے پیچھے منظم منصوبہ بندی موجود تھی۔ حکومتی دعوؤں کے مطابق بعض سیاسی رہنماؤں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے رابطے اور ہدایات جاری کیں۔ اس حوالے سے کئی اعلیٰ سیاسی شخصیات کے نام بھی تفتیش میں سامنے آئے۔

ہلاکتیں، گرفتاریاں اور انسداد دہشت گردی قوانین کا اطلاق

ان واقعات میں متعدد افراد جان سے گئے جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ حکومت نے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں۔ ملک بھر میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ پنجاب میں سب سے زیادہ گرفتاریاں کی گئیں۔

حکومتی تحقیقات اور جے آئی ٹیز

پنجاب حکومت نے واقعات کی تحقیقات کے لیے درجنوں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں (JITs) تشکیل دیں جنہیں پولیس اور پراسیکیوشن کے اہلکاروں کی مدد حاصل تھی تاکہ ہر پہلو سے تحقیقات کی جا سکیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن

واقعات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع ہوئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان گرفتاریوں پر سوالات اٹھائے جبکہ متعدد رہنماؤں کو سیاسی سرگرمیوں سے دستبرداری کے لیے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض کے کاروبار بند کیے گئے اور گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

میڈیا پابندیاں اور انٹرنیٹ کی بندش

صورتحال کے دوران موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی محدود یا بند کر دیا گیا، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ فری لانس ورکرز اور ڈیجیٹل کاروبار متاثر ہوئے۔ حکومتی دعوے کے مطابق یہ اقدامات امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے۔ بعد میں مرحلہ وار انٹرنیٹ بحال کیا گیا۔

صحافت اور آزادی اظہار پر اثرات

کچھ رپورٹس کے مطابق بعض میڈیا اداروں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ مخصوص سیاسی شخصیت کی کوریج محدود کریں۔ اس کے بعد صحافتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی اور کئی صحافیوں کے اغوا یا لاپتہ ہونے کے واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

فوجی عدالتوں میں مقدمات اور قانونی تنازع

حکومت نے بعض مقدمات کو فوجی عدالتوں میں منتقل کیا جس پر انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ متعدد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں جن میں ان کارروائیوں کو آئینی طور پر چیلنج کیا گیا۔

سیاسی و قانونی بحث اور بعد کے اثرات

ان واقعات کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس واقعے کو مختلف انداز میں بیان کرتی رہیں حکومت اسے منظم حملہ قرار دیتی ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی انتقام یا فالس فلیگ آپریشن کہتی ہے۔

9 مئی کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع موڑ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جن کے اثرات آج بھی سیاسی ماحول، عدالتی کارروائیوں اور انسانی حقوق کے مباحث پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Related Posts