دنیا بھر کی جامعات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ طلبہ علمی صلاحیت نہیں بلکہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کی مہارت پر نمبر لینے لگے۔ اساتذہ، لیکچررز، اور پروفیسرز کا ماننا ہے کہ تعلیم کے میدان میں یہ رجحان بے حد خطرناک ہے جو بنی نوع انسان کی نسلیں تباہ کردے گا۔
کئی پروفیسرز کا کہنا ہے کہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے جدید اے آئی ٹولز طلبہ کی سیکھنے اور خود سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ رجحان اسی طرح بڑھتا رہا تو مستقبل میں ایسے گریجویٹس سامنے آسکتے ہیں جو ڈگریاں تو رکھتے ہوں گے، مگر حقیقی علمی سمجھ بوجھ اور تحریری مہارتوں سے محروم ہوں گے۔
کینیڈا کی ’ولفریڈ لاریئر یونیورسٹی‘ کی ایک طالبہ ’سارہ‘ نے بتایا کہ اس نے سب سے پہلے ہائی اسکول کے آخری سال میں نقل کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا سہارا لیا۔ بعد میں کالج میں پہنچ کر وہ تقریباً ہر مضمون کے اسائنمنٹس اور تحریری کام اے آئی کی مدد سے مکمل کرنے لگی۔ سارہ کے مطابق اس تبدیلی کے بعد اس کے گریڈز غیرمعمولی طور پر بہتر ہوئے اور اس نے اس کی تعلیمی زندگی بدل کر رکھ دی۔
طالبہ نے مزید اعتراف کیا کہ جیسے لوگ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ریڈٹ جیسی ایپس کے عادی ہوجاتے ہیں، ویسے ہی وہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ پر بھی حد سے زیادہ انحصار کرنے لگی تھی۔ اس کے بقول جو مضمون لکھنے میں پہلے 12 گھنٹے لگتے تھے، وہ اب محض 2 گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف ایک استاد ’ولیمز‘ نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق کم از کم آدھے طلبہ اپنے تحقیقی اور تحریری کام کے لیے اے آئی کا سہارا لے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے استعمال کو ثابت کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی اس مسئلے کی سنگینی کا مکمل ادراک نہیں کر سکے۔
ولیمز کے مطابق موجودہ صورتحال میں طلبہ کی اپنی علمی قابلیت کے بجائے دراصل ’چیٹ جی پی ٹی‘ کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت کو نمبر دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی تعلیم کے میدان میں ایک مفید معاون ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بے تحاشا استعمال سے تنقیدی سوچ، تحقیق کی عادت اور تخلیقی صلاحیتوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔تعلیمی اداروں کو تعلیمی نظام، امتحانی انفراسٹرکچر اور طلبہ کی جانچ پڑتال کے طریقے بدلنے کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








