دشمن پر ایٹمی حملہ کب، کیوں اور کیسے کیا جائےگا؟ دنیا کو ہلا دینے والی آئینی ترمیم آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

شمالی کوریا نے اپنے آئین میں ایک انتہائی حساس اور سخت نوعیت کی ترمیم کی ہے جس کے تحت اگر ملک کے سربراہ کِم جونگ اُن کو کسی غیر ملکی دشمن کے ہاتھوں قتل کیا جاتا ہے تو ملک کی فوج فوری طور پر جوابی جوہری حملہ کرنے کی پابند ہوگی۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھیوں کی امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں میں ہلاکت کی خبریں گردش میں تھیں۔ اس تناظر کو اس ترمیم سے جوڑا جا رہا ہے۔

یہ آئینی تبدیلی پیانگ یانگ میں شروع ہونے والے 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران منظور کی گئی جس میں اس شق کو باضابطہ طور پر آئین کا حصہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) نے اعلیٰ حکام کو دی گئی بریفنگ میں اس نئی آئینی شق سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

این آئی ایس کے مطابق کِم جونگ اُن ملک کی جوہری افواج کے کمانڈر انچیف ہیں تاہم نئی ترمیم میں یہ واضح طریقہ کار شامل کیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی حملے میں مارے جائیں تو فوجی ردعمل کیسے اور کس شکل میں ہوگا۔

نئے ترمیم شدہ آئینی آرٹیکل 3 کے مطابق اگر دشمن قوتیں ریاست کے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو نشانہ بنائیں یا اس کے وجود کو خطرے میں ڈالیں تو جوہری حملہ خودکار طور پر فوری طور پر شروع کیا جا سکے گا۔

Related Posts