مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے اثرات بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑگئے، جس کے باعث ترسیلات میں ماہانہ بنیاد پر8 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 3 ارب 50 کروڑ ڈالر ملک منتقل کیے، جبکہ اس سے قبل مارچ میں یہ حجم 3 ارب 83 کروڑ ڈالر تک پہنچا تھا، یوں ماہ بہ ماہ کمی سامنے آئی ہے۔
مرکزی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں سے آنے والی رقوم میں 4 فیصد سے 11 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اس کے برعکس سالانہ بنیاد پر ترسیلات میں 11 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں پاکستان نے مجموعی طور پر 33 ارب 86 کروڑ ڈالر کی ترسیلات وصول کیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ رہیں، جس سے مجموعی رجحان میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب سے آئیں، جو 84 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بھیجے۔ اسی طرح برطانیہ سے 56 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور امریکا سے 32 کروڑ ڈالر کی ترسیلات پاکستان منتقل کی گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








