موجودہ دور میں ہر انسان نے کوئی نہ کوئی معمول بنا رکھا ہے جو اسے ہر گزرتے روز کے ساتھ جسمانی اور ذہنی تھکن سے نڈھال کردیتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ چاق و چوبند اور مستعد بھی نظر آتے ہیں جو دوسروں سے الگ سوچتے ہیں۔
دراصل ایسے لوگ ایسی کچھ عادتیں جانتے ہیں جو ان کی توانائی کی دشمن ہوتی ہیں، اور وہ ان سے دور رہتے اور ایسی عادات اپناتے ہیں جو انہیں ہر وقت توانا اور متحرک رکھ سکیں۔ آئیے آج کچھ ایسی عادتوں پر نظر ڈالتے ہیں جو توانائی چاٹ جاتی ہیں۔
سب سے پہلی عادت اسکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا ہے اور موبائل، لیپ ٹاپ یا ٹی وی کے سامنے مسلسل بیٹھنے سے نہ صرف آنکھیں تھکتی ہیں بلکہ دماغ بھی مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔یہ عادت خاموشی سے ذہنی توانائی کم کرتی ہے اور حقیقی سکون حاصل کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔
دوسری عادت نیند پوری نہ کرنا ہے کیونکہ دیر سے سونا یا بار بار نیند کا ٹوٹنا جسم کو مکمل طور پر بحال ہونے نہیں دیتا۔
اسی وجہ سے صبح اٹھنے کے باوجود تھکن، سستی اور چڑچڑاپن محسوس ہوتا ہے۔
تیسری عادت غیر صحت مندانہ غذا ہے یا پھر کھانا سرے سے چھوڑ ہی دینا۔ کیونکہ غیر متوازن خوراک اور وقت پر کھانا نہ کھانے سے جسم کو ضروری توانائی نہیں ملتی۔ نتیجتاً کمزوری، تھکن اور توجہ کی کمی جیسے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔
چوتھی عادت ہر وقت سوچتے رہنا اور ضرورت سے زیادہ فکر کرنا ہے۔ مسائل کے بارے میں مسلسل سوچنا یا مستقبل کی بے جا پریشانی ذہن کو تھکا دیتی ہے۔ یہ ذہنی دباؤ بعض اوقات جسمانی مشقت سے بھی زیادہ توانائی چھین لیتا ہے۔
پانچویں عادت جسمانی سرگرمی کی کمی ہے۔ کیونکہ طویل وقت تک ایک جگہ بیٹھے رہنے سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور توانائی کم ہونے لگتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کم حرکت کرنے والے افراد اکثر زیادہ تھکن محسوس کرتے ہیں تاہم یہ جسمانی سرگرمی ایک خاص حد سے زیادہ بھی نہیں ہونی چاہئے۔
چھٹی عادت نہ کہنے کو نہ اپنانا ہے کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہر بات پر مثبت جواب دینا اور ہاں کہہ کر ہر ذمہ داری قبول کر لینا اور دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش انسان کو تھکا دیتی ہے۔ اپنے لیے وقت نہ نکالنے سے ذہنی اور جسمانی برن آؤٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ساتویں عادت یہ ہے کہ اپنا موازنہ ہر دوسرے شخص سے کیا جائے کیونکہ دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر خود کو کمتر سمجھنا ذہنی دباؤ اور بے اطمینانی پیدا کرتا ہے۔یہ عادت آہستہ آہستہ آپ کی خوشی اور توانائی دونوں ختم کر سکتی ہے۔
آٹھویں عادت یہ ہے کہ جسم کے انتباہی اشاروں کو نظر انداز کردیا جائے کیونکہ مسلسل تھکن، سر درد یا چڑچڑے پن کو معمول سمجھ کر نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ جسم اکثر مکمل تھکن سے پہلے ہمیں خبردار کرتا ہے، مگر ہم اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
نویں عادت اپنے لیے وقت نہ نکالنا ہے کیونکہ اپنی مصروف زندگی میں چند لمحے سکون کے نہ ملیں تو ذہن کو تازگی نہیں ملتی۔آرام اور سکون کے چھوٹے چھوٹے وقفے بھی ذہنی طاقت بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دسویں عادت یہ ہے کہ منفی خیالات کو خود پر حاوی ہونے دیا جائے کیونکہ بری خبروں، تنازعات یا دوسروں کے مسائل کو مسلسل اپنے مسائل سمجھتے رہنا ذہنی بوجھ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اگر جذباتی حدود مقرر نہ کی جائیں تو یہی حساسیت شدید تھکن میں بدل سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








