کراچی میں دودھ نہیں ملے گا؟ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کا دھماکا خیز اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے دودھ فروشوں کی تنظیم نے فی لیٹر 100 روپے اضافے کا مطالبہ کردیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات نے اس شعبے کو شدید مالی دباؤ اور بحران کی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

کمشنر کراچی کو ارسال کیے گئے ایک خط میں ایسوسی ایشن نے فوری طور پر دودھ کی قیمت پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ریلیف نہ دیا گیا تو شہر میں دودھ کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

تنظیم کے عہدیدار شاکر گجر کا کہنا ہے کہ موجودہ نرخوں پر کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق چارہ، بجلی، پٹرول اور دیگر ضروری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث سرکاری قیمت پر دودھ فروخت کرنا ناقابلِ عمل ہو گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق چارے اور ڈیری سے متعلق دیگر بنیادی اشیاء کی لاگت میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مجموعی اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ چند روز قبل ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافہ کر دیا تھا جس سے ضروری اشیاء کی قیمتوں پر مجموعی مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

مبشر قادری عباسی نے خبردار کیا ہے کہ ورکنگ کیپیٹل کی کمی کے باعث کراچی میں دودھ کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ تنظیم اندرونی مشاورت کے بعد کرے گی۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ اگر قیمتوں پر نظرثانی نہ ہوئی تو پورا شعبہ شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو اس سے شہریوں کے گھریلو اخراجات میں واضح اضافہ ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شہر پہلے ہی آٹے کی ریکارڈ قیمتوں اور ٹرانسپورٹ مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق خوراک اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا مجموعی اثر مہنگائی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے خاص طور پر عیدالاضحیٰ سے پہلے، جس سے عام شہریوں کے بجٹ پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

Related Posts