لاہور ہائیکورٹ نے پیر کے روز ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو 70 ملین روپے واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ رقم انہوں نے تقریباً سات سال قبل چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں ضمانت کے طور پر جمع کروائی تھی۔
یہ پیش رفت مریم نواز کی اس درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئی جس میں انہوں نے رقم کی واپسی کی استدعا کی تھی۔ کیس کے دوران نیب کی جانب سے جاری انکوائری پہلے ہی بند کی جا چکی تھی جس کے بعد نیب کے وکیل نے عدالت میں ایک حلف نامہ جمع کروایا اور اپنی درخواست واپس لینے کی تصدیق کی جس سے رقم کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی۔
مریم نواز نے نومبر 2019 میں یہ رقم اس وقت جمع کروائی تھی جب لاہور ہائی کورٹ نے انہیں چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں گرفتاری کے بعد ضمانت دی تھی۔ اس ضمانت کے تحت انہیں پاسپورٹ جمع کروانے، 70 ملین روپے بطور سیکیورٹی عدالت میں رکھنے اور دیگر ضمانتی شرائط پوری کرنے کا پابند کیا گیا تھا جبکہ نیب ان پر شوگر ملز سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کر رہا تھا۔
مارچ 2026 میں احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے مریم نواز اور ان کے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف انکوائری ختم کرنے کے فیصلے کی باقاعدہ منظوری دی تھی جس کی وجہ شواہد کی کمی بتائی گئی۔ عدالت نے اس موقع پر یہ بھی قرار دیا تھا کہ ضمانتی رقم واپس کی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک سول درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جب کیس ختم ہو چکا ہے اور نیب بھی پیچھے ہٹ چکا ہے تو جمع کروائی گئی رقم واپس کی جائے۔ عدالت نے اس معاملے پر 2026 کے آغاز سے متعدد سماعتیں کیں اور نیب سے وضاحت بھی طلب کی۔
پیر کے روز چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے 70 ملین روپے مریم نواز کو واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی مذکورہ کیس میں ضمانتی رقم کی شرط بھی باقاعدہ طور پر ختم ہو گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








