بینکنگ سیکیورٹی سسٹم پر سوالیہ نشان؟ آن لائن فراڈ کیس میں عدالت کا حیران کن فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی آئینی عدالت نے ایم سی بی بینک کی جانب سے دائر کی گئی اپیل مسترد کرتے ہوئے آن لائن بینکنگ فراڈ کیس میں لیہ کے رہائشی شہری کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ بینک متاثرہ صارف کی رقم واپس کرے۔

یہ کیس جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنا اس دوران عدالت نے بینکاری نظام میں موجود کمزوریوں اور ڈیجیٹل فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات ہیکرز کے پاس صارفین کا ڈیٹا اس وقت بھی موجود ہوتا ہے جب ان کا اکاؤنٹ باقاعدہ طور پر کھولا بھی نہیں گیا ہوتا جس سے بینکاری نظام کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایک خطرناک رجحان سامنے آ رہا ہے جس میں شہریوں کو جعلی فون کالز کے ذریعے او ٹی پی (One-Time Password) شیئر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انہیں دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ان کے اکاؤنٹس بند کر دئیے جائیں گے۔

جسٹس نے مزید نشاندہی کی کہ بعض غیر فعال اکاؤنٹس کو بھی بغیر کسی لین دین کے برسوں بعد بند کیے جانے کی اطلاعات موجود ہیں اس لیے بینکوں کو اپنی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عام صارفین کو تحفظ دیا جا سکے۔

بینک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تمام ٹرانزیکشنز اکاؤنٹ ہولڈر نے موبائل ایپ کے ذریعے خود کی تھیں تاہم متاثرہ شہری نے دعویٰ کیا کہ اس کا موبائل نمبر ہیک ہو کر فراڈ کیلئے استعمال کیا گیا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس سے قبل صدر مملکت، بینکنگ محتسب اور ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں صارف کے حق میں فیصلے دے چکے ہیں جس کے بعد موجودہ اپیل مسترد کر دی گئی۔

Related Posts