ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے سولر پینلز کی کسٹمز ویلیوز میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے ویلیوایشن رولنگ نمبر 2077 آف 2026 جاری کی گئی۔
اس سے قبل سولر پینلز کی کسٹمز ویلیوز ویلیوایشن رولنگ نمبر 2012-2025 کے تحت مقرر کی گئی تھیں تاہم مذکورہ رولنگ کو تقریباً ایک سال گزر چکا تھا۔ اس دوران عالمی منڈی میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث نئی ویلیوز مقرر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
اسی مقصد کیلئے درآمدی اعداد و شمار کا ابتدائی جائزہ لیا گیا جس میں ڈیکلئیرڈ ویلیوز، اسیسڈ ویلیوز اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کا تفصیلی تجزیہ شامل تھا۔ یہ عمل کسٹمز ایکٹ 1969 کی شق 25A کے تحت سولر پینلز کی نئی کسٹمز ویلیوز طے کرنے کیلئے کیا گیا۔
کسٹمز ویلیوز کے تعین کیلئے ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شرکا کے موقف کو تفصیل سے سنا گیا جبکہ ان سے اپنے دلائل کے حق میں دستاویزی ثبوت جمع کرانے کی بھی درخواست کی گئی۔
کسٹمز ایکٹ 1969 کی شق 25 میں دیے گئے ویلیوایشن طریقہ کار کو مرحلہ وار مدنظر رکھتے ہوئے سولر پینلز کی نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کی گئیں۔ حکام کے مطابق ٹرانزیکشن ویلیو میتھڈ، جو شق 25 کی ذیلی شق (1) میں شامل ہے مطلوبہ معلومات دستیاب نہ ہونے کے باعث قابلِ عمل نہیں پایا گیا۔
بعد ازاں شق 25(5) کے تحت یکساں نوعیت کی اشیا کی ویلیو کا طریقہ بھی زیر غور آیا تاہم مقدار اور معیار سے متعلق مکمل اور واضح شواہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر مکمل انحصار ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد شق 25(6) کے تحت مماثل اشیا کی ویلیو کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا اور کلیئرنس ڈیٹا کی بنیاد پر آخرکار اسی طریقے کو سولر پینلز کی نئی کسٹمز ویلیوز کے تعین کیلئے استعمال کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








