سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نے شریعہ گورننس ریگولیشنز 2023 میں اہم ترامیم تجویز کی ہیں تاکہ شریعہ اصولوں کے مطابق کام کرنے والی کمپنیوں کیلئے ضوابط کو مزید موثر اور آسان بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں ایس ای سی پی کی جانب سے مجوزہ ترامیم پر مبنی ایک تقابلی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
تجویز کردہ ترامیم کے مطابق کمیشن کی جانب سے کمپنیوں کو دی جانے والی منظوری کو صرف ریگولیٹڈ افراد یا اداروں تک محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ایک نئی کیٹیگری متعارف کروانے کی تجویز بھی شامل ہے جس کیلئے خصوصی شرائط رکھی جائیں گی۔
مجوزہ تبدیلیوں میں شریعہ ریویو سے متعلق ذمہ داریاں درخواست گزار کے شریعہ سپروائزری بورڈ یا شریعہ ایڈوائزر کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نگرانی اور منظوری کا عمل براہِ راست متعلقہ ادارے کے اندر انجام دیا جا سکے۔
کمیشن کے فیصلے کے مطابق اب سرٹیفکیشن صرف انہی ریگولیٹڈ افراد یا اداروں تک محدود ہوگا جو باقاعدہ طور پر لائسنس یافتہ، رجسٹرڈ یا کسی اور شکل میں مجاز قرار دیے گئے ہوں۔
ترمیمی مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی درخواست دینے کیلئے شریعہ بورڈ یا شریعہ ایڈوائزر کا موجود ہونا لازمی ہوگا جبکہ شریعہ ریویو اور منظوری کی بنیادی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوگی۔
ایس ای سی پی کے مطابق ان کمپنیوں کیلئے جو ریگولیٹڈ افراد کے زمرے میں شامل نہیں کمیشن کے بجائے شریعہ بورڈ یا ایڈوائزر کی جانب سے سرٹیفکیشن کا نیاطریقہ کار متعارف کروایا جا رہا ہے۔
مجوزہ ترامیم کا مقصد شریعہ کمپلائنس کے نظام کو مزید شفاف اور موثر بنانا ہے خاص طور پر غیر ریگولیٹڈ شعبے میں جہاں سرٹیفکیشن کی ذمہ داری شریعہ ایڈوائزرز کو دی جا رہی ہے تاکہ جوابدہی اور قواعد پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ شریعہ ایڈوائزر کے طور پر رجسٹرڈ شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں کیلئے لازمی سرٹیفکیشن کی شرط ختم کر دی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








