آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے قریب سیاحتی مقام پیر چناسی میں ایک بڑا عقاب پکڑے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والا جی پی ایس ٹریکر اور اس کے بازو پر پیلا ٹیگ F49 موجود تھا جس نے مقامی افراد اور ماہرین دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پرندے کی پشت پر جدید ٹریکنگ آلہ نصب تھا جبکہ اس کے ایک پر پر واضح طور پر پیلا شناختی ٹیگ بھی لگا ہوا تھا۔ واقعے کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد عقاب کو احتیاط سے پکڑ کر اس ڈیوائس کا معائنہ کر رہے ہیں جو بظاہر شمسی توانائی سے چارج ہونے والا GPS/GSM ٹریکر لگتا ہے جیسا کہ عام طور پر جنگلی حیات کی تحقیق میں استعمال کیا جاتا ہے۔
جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عقاب عام شکاری پرندہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق “F49” جیسے کوڈز عموماً عالمی سطح پر عقابوں، بازوں اور گدھوں کی نگرانی کے تحقیقی منصوبوں میں استعمال ہوتے ہیں تاکہ ان کی ہجرت، رہائش اور نقل و حرکت کے راستوں کا مطالعہ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ پرندہ ممکنہ طور پر کسی بین الاقوامی تحقیق یا مائیگریشن ٹریکنگ پروگرام کا حصہ ہوسکتا ہے جہاں ایسے جی پی ایس آلات ہجرت کرنے والے شکاری پرندوں پر لگائے جاتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس عقاب کا تعلق وسطی ایشیا یا خلیجی ممالک میں چلنے والے کسی تحقیقی منصوبے سے ہوسکتا ہے کیونکہ مختلف ممالک اور غیر سرکاری تنظیمیں خطرے سے دوچار شکاری پرندوں کی نگرانی کیلئے طویل المدتی ٹیگنگ پروگرامز چلاتی ہیں جو ہجرت کے دوران کئی سرحدیں عبور کرتے ہیں۔
ابھی تک مقامی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ اس پرندے کو ٹریکر سمیت چھوڑا جائے گا یا مزید جانچ کیلئے وائلڈ لائف حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ اس واقعے نے علاقے میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے اور ماہرین کے مطابق F49 ٹیگ اور شمسی GPS آلہ کسی مشکوک سرگرمی کے بجائے ایک وسیع سائنسی تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








