حال ہی میں سامنے آنے والی جدید ترین پیشرفت کے مطابق سائنسدانوں نے مستقبل قریب میں انسان کے ضائع شدہ اعضا ہڈیوں سمیت دوبارہ بنانے کے سلسلے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹیکساس کے اے اینڈ ایم کالج آف ویٹرنری میڈیسن کے سائنسدانوں نے ممالیہ (دودھ دینے والے) جانوروں میں ہڈیوں اور مربوط بافتوں کو دوبارہ پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی جسے ری جنریٹو میڈیسن اور اعضا کی بحالی کی تحقیق کیلئے اہم اقدام قرار دیا جارہا ہے۔
عالمی جریدے نیچر کمیونیکشینز میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ممالیہ جانوروں میں ممکنہ طور پر اب بھی کھوئی ہوئی بافتوں کو دوبارہ پیدا کرنے کی حیاتیاتی صلاحیت موجود ہے تاہم یہ عمل عام طور پر جسم کے زخم بھرنے کے دوران بننے والے داغ کے ردِ عمل میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
امریکی محققین نے 2 مراحل پر مشتمل علاج کا طریقہ تیار کرلیا ہے جس کے نتیجے میں چوٹ پہنچنے کے بعد ہڈیوں، لیگامنٹس، ٹینڈنز اور جوڑوں کا انفراسٹرکچر دوبارہ افزائش کی جانب مائل ہوجاتا ہے، تاہم دوبارہ بننے والی بافت مکمل طور پر مثالی شکل میں نہیں بن سکی۔
اس کے باوجود سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس تجربے میں وہ تمام اہم ڈھانچے دوبارہ بن گئے جو کٹائی کے دوران ہٹائے گئے تھے جبکہ اس تحقیق کا مرکزی نقطہ فائبر بلاسٹ خلیات پر مرکوز رہا جو عموماً ممالیہ جانوروں میں چوٹ کے بعد داغی بافتیں تخلیق کرتے ہیں تاہم اسٹار فش جیسے جانوروں میں یہی خلیاف ایک بلاسٹیما تخلیق کرتے ہیں جو مکمل عضو دوبارہ تخلیق کرسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








