ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈرگ ڈیلر ملزمہ پنکی کے متعلق اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اے آئی جی آزاد خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 12 مئی 2026 کو سٹی پولیس اور وفاقی حساس ادارے نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے ملزمہ پنکی کو گرفتار کیا اور ڈیڑھ کلو کوکین اور 7 کلو کیمیکلز برآمد ہوئے جو مختلف منشیات بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک 9ایم ایم پستول جس پر تھانہ گارڈن میں مقدمہ درج کیا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ جب ہم ملزمہ کو ریمانڈ کیلئے عدالت لے گئے تو جیل کسٹڈی کی اجازت ملی۔ جن 3 پولیس افسران کو پنکی کیس میں ذمہ دار سمجھا، انہیں معطل کردیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو ذمہ داری دی گئی کہ ملزمہ پنکی کی گرفتاری کے حوالے سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی تفتیش کریں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ بعد ازاں پولیس کو 3روز کا ریمانڈ ملا اور صرف 2 روز میں جو تفتیش کی گئی ہے اس کے بعد ٹیم بنائی گئی جس میں مجھے سربراہی دی گئی کیونکہ پنکی کا کیس کافی بڑا ہے اور ہم اس کی وسیع تر تفتیش چاہتے ہیں۔ اب تک کی تفتیش میں پنکی نیٹ ورک سے جڑے ہوئے 300 نام سامنے آئے ہیں۔ ہم نے انمول عرف پنکی کو لاہور سے نہیں، کراچی سے پکڑا ہے۔
اے آئی جی نے کہا کہ پنکی کیس میں سینئر ملوث ہو یا جونیئر، سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پنکی کی لیک آڈیو میں پولیس کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ہم پنکی نیٹ ورک کیس میں مجرموں اور منشیات فروشی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ پنکی کا برینڈ نام ہی اس کا پھندا بنے گا۔ان لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہہ دیا ہے جو ملوث ہیں۔
کراچی پولیس چیف نے کہا کہ ایک منشیات کے عادی شخص کی موت ہوئی جس سے پنکی کا نمبر ملا ہے۔ پنکی پر ایک قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔ نیٹ ورک میں جو بھی لوگ ملوث ہیں اور پنکی نے جو نام دئیے ہیں، ان کی تفتیش ہوگی۔ملزمہ کے ساتھیوں کی لوکیشن ٹریس کی جارہی ہے۔ 8رائیڈرز لاہور سے منشیات فروخت کرنے آتے تھے۔ پنکی کے نیٹ ورک میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنکی نیٹ ورک میں کچھ غیر ملکی افریقن ہیں جو لاہور میں ہیں۔ اینا نام کے اکاؤنٹ میں 90لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ لاہور سے 20خواتین بھی پنکی نیٹ ورک میں شامل ہیں۔ پنکی کے اکاؤنٹ میں 5کروڑ کی ٹرانزیکشن ہے۔ منشیات کا نیٹ ورک پوری دنیا میں ہے۔ ملزمہ کے فون سے 869افراد کی فہرست ملی۔ پنکی کراچی میں 2018 سے منشیات فروخت کررہی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








