ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کے موبائل کا فرانزک کرا لیا گیا اور اس میں سے 869 نمبرز برآمد ہوئے ہیں۔
ملکی تاریخ کے منشیات کے ایک بڑے کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کے موبائل فون کا فرانزک کرا لیا گیا ہے، جس میں سے 869 نمبرز برآمد ہوئے ہیں اور اس سے پنکی کے نیٹ ورک کا بھی پتہ چلتا ہے کہ کہاں تک وسیع ہے۔
یہ تمام انکشافات ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے پریس کانفرنس میں کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنکی کے موبائل کا فرانزک کرایا ہے، جس میں 869 نمبرز برآمد ہوئے۔ نمبرز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نیٹ ورک کراچی تک محدود نہیں بلکہ افریقہ تک پھیلا ہوا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ پنکی نیٹ ورک میں 300 لوگ ڈرگ ایکٹویٹی میں ملوث ہیں۔ 869 نمبرز میں سے 132 نمبرز کراچی کے ہیں جبکہ باقی دیگر علاقوں کے ہیں۔ نیٹ ورک میں کچھ افریقی بھی شامل ہیں جو لاہور میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ برآمد نمبروں میں سے 240 کی لوکیشن ٹریس کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں 20 خواتین بھی شامل ہیں۔ پنکی کچھ نام دے رہی ہے اور کچھ چھپا رہی ہے۔
آزاد خان نے کہا کہ ہمیں مکمل تصدیق کرنے دیں، سب کے نام سامنے لے آئیں گے۔ منشیات فروخت کرنے والے مجرم ہیں، اسی طرح ٹریٹ کیا جائے گا، اگر بیوروکریٹ ملوث ہوئے تو ان کو بھی سامنے لائیں گے۔ نیٹ ورک میں ملوث 4 نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلیے بھیجے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ پنکی نے 9 رائیڈرز رکھے تھے، ان میں سے 8 پنجاب کے تھے اور اسی کام کیلیے آتے تھے۔ پنجاب پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تفصیلات لے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنکی کی مالی ٹرانزیکشن بھی پکڑ لی ہے۔ ایک اکاؤنٹ پر 500 صفحات کی ٹرانزیکشن ہے، سب سے زیادہ ٹرانزیکشن لاہور اینہ کے نام کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








