ایفل ٹاور پر فلسطینی پرچم لہرا دیا! فرنچ حکام سخت غصے میں؛ 6 سماجی کارکن زیر حراست

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

فرانسیسی حکام نے چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایفل ٹاور سے بغیر اجازت فلسطینی پرچم لہرایا تھا۔

ماحولیاتی سرگرم کارکنوں کے گروپ ایکسٹینکشن ریبیلیئن فرانس نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کی دوپہر ایفل ٹاور کی پہلی منزل سے ایک بڑا فلسطینی پرچم لٹکایا گیا تھا۔

گروپ کے ایک نمائندے نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد فلسطینیوں کے لیے یکجہتی کا پیغام دینا تھا۔ ان کے مطابق یہ احتجاج اسرائیل کی جانب سے غزہ میں قتل عام اور فلسطینی علاقوں میں زیتون کے درختوں کی کٹائی جیسے اقدامات جنہیں وہ ماحولیاتی جرائم قرار دیتے ہیں کے خلاف تھا۔

یہ احتجاج نکبہ ڈے کے موقع کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا تھا جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے دوران فلسطینیوں کی بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

اس سے قبل ستمبر میں ایفل ٹاور پر اسرائیل اور فلسطین دونوں کے پرچموں کے ساتھ ساتھ امن کی علامت کبوتر اور زیتون کی شاخ کی تصاویر بھی پروجیکٹ کی گئی تھیں اور یہ سب فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے پہلے کیا گیا تھا۔

اکتوبر 2023 میں بھی، جب فلسطینی تنظیم حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد غزہ جنگ شروع ہوئی تھی ایفل ٹاور کو اسرائیلی پرچم کی روشنیوں سے روشن کیا گیا تھا۔

سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار جو اے ایف پی نے مرتب کیے ہیں کے مطابق اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری شامل تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 72,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔

Related Posts