کراچی پولیس نے مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد اس کی جان کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات نافذ کر دئیے ہیں۔ یہ کارروائی ایک ہائی پروفائل منشیات کیس کے تناظر میں سامنے آئی جس کے بعد حکام نے اس کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بغداد پولیس اسٹیشن اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پورے علاقے کو سخت نگرانی میں رکھا جا رہا ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی ایک ایس پی رینک کے افسر کے سپرد کی گئی ہے جبکہ دو ایس ڈی پی اوز، تین ایس ایچ اوز اور 40 سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ شارپ شوٹرز کو بھی قریبی عمارتوں اور چھتوں پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جیل یا لاک اپ کے اطراف میں اسنائپرز کی موجودگی بھی یقینی بنائی گئی ہے جبکہ کوئیک رسپانس ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ممکنہ حملے یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کا نظام فعال ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بغداد پولیس اسٹیشن جانے والے تمام راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور صرف مجاز افراد کو ہی ملزم تک رسائی کی اجازت ہوگی۔ غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پولیس اور خواتین اہلکاروں کی بڑی تعداد دو شفٹوں میں ڈیوٹی سرانجام دے گی جبکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
پلان کے مطابق ایس پی لیاری عدالت میں پیشی کے دوران ملزم کی منتقلی کی نگرانی کریں گے جبکہ ایس ڈی پی او بغداد آپریشن کے مجموعی انچارج ہوں گے۔
بغدادی، رسالہ اور گارڈن تھانوں کے ایس ایچ اوز کو زمینی سطح پر انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ بجلی کے بیک اپ جنریٹر ہر وقت فعال رکھے جائیں تاکہ سیکیورٹی میں کسی قسم کی خلل نہ آئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








