بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے متنازع ریمارکس کے بعد ایک ایسا سیاسی طنزیہ رجحان سامنے آیا جس میں خاص طور پر نوجوان نسل کی بڑی تعداد آن لائن شامل ہونے لگی۔
ابھیجیت دیپکے پچھلے تین دنوں سے تقریباً سو نہیں سکے کیونکہ سوشل میڈیا پر انہیں مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ایک معمولی مذاق اچانک اتنا بڑا رخ اختیار کر جائے گا اس کا انہیں خود بھی اندازہ نہیں تھا۔
امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی سے تعلقاتِ عامہ میں حال ہی میں تعلیم مکمل کرنے والے 30 سالہ دیپکے اب ایک وسیع طنزیہ سیاسی تحریک کے چہرے بن چکے ہیں۔ اس تحریک کو کاکروچ جنتا پارٹی یا مختصراً سی جے پی کہا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں افراد آن لائن اس کا حصہ بن رہے ہیں۔
جمعے کو بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران کہا کہ طفیلی عناصر نظام پر حملہ آور ہیں۔ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو روزگار یا کسی پیشے میں جگہ نہیں ملتی وہ میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی کارکن بن کر دوسروں پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے عدالت میں کہا کہ کچھ نوجوان ایسے ہیں جو روزگار نہ ملنے کے باعث مختلف قسم کی سرگرمیوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر ہر ادارے یا شخص پر حملے کرنے لگتے ہیں۔
بعد میں جسٹس کانت نے وضاحت پیش کی کہ ان کے الفاظ دراصل جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے چند افراد کے لیے تھے اور ان کا مقصد پورے بھارتی نوجوان طبقے کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ترقی یافتہ بھارت کے ستون بھی قرار دیا۔
اس کے باوجود ان کے بیان پر خاص طور پر جین زی نسل کے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ نوجوان پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے بارہ سالہ دور میں بڑھتی مذہبی تقسیم سے پریشان ہیں۔
جب سوشل میڈیا پر غصہ بڑھنے لگا تو دیپکے نے ہفتے کے روز ایکس پر لکھا کہ اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟ بعد ازاں انہوں نے اس مذاق اور نوجوانوں کی شدید مایوسی کو باقاعدہ شکل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا دئیے۔ یہ نام مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنزیہ انداز میں رکھا گیا۔
دیپکے نے شکاگو سے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ عوام کو کاکروچ اور طفیلی سمجھتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کاکروچ گندگی اور بوسیدہ جگہوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے مطابق آج کا بھارت بھی اسی صورتحال کا شکار ہے۔
صرف تین دن میں سی جے پی کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 11.1 ملین سے تجاوز کر گئی جبکہ تین لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ افراد گوگل فارم کے ذریعے پارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کے انسٹاگرام فالوورز اس سے کم ہیں۔
اس نئی طنزیہ جماعت میں مغربی بنگال سے اپوزیشن رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا اور بہار کے سابق رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد سمیت کئی معروف سیاسی شخصیات بھی شامل ہوچکی ہیں۔
وفاقی بیوروکریسی سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے آشیش جوشی بھی ابتدائی ارکان میں شامل تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اس تحریک کے بارے میں پڑھنے کے بعد فوراً اس میں دلچسپی لی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں نفرت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی ایک خوشگوار تازگی کا احساس دلاتی ہے۔
ساٹھ سالہ جوشی کے مطابق نوجوانوں کو کاکروچ کہنا ایک اور زاویہ بھی رکھتا ہے کاکروچ سخت جان ہوتے ہیں وہ ہر مشکل میں زندہ رہتے ہیں اور اگر وہ متحد ہو جائیں تو پورے نظام پر پھیل سکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا جین زی نسل کے بڑے احتجاجی مظاہروں کا مرکز بن چکا ہے جہاں سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی تحریکوں نے حکومتیں تک گرا دیں۔
دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا بھارت بھی اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ اگرچہ ملکی معیشت میں اضافہ ہوا ہے لیکن آمدنی میں عدم مساوات، بے روزگاری اور مہنگی زندگی نے عوام کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔
بھارت میں ہر سال آٹھ ملین سے زیادہ گریجویٹس تیار ہوتے ہیں مگر ان میں بے روزگاری کی شرح 29.1 فیصد ہے جو ان لوگوں کے مقابلے میں نو گنا زیادہ ہے جنہوں نے کبھی اسکول نہیں دیکھا۔ بھارت کی آبادی کا ایک بڑا حصہ جین زی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی بھی سمجھی جاتی ہے۔
اسی لیے چیف جسٹس کے الفاظ نے نوجوانوں کے جذبات کو گہرا دھچکا پہنچایا۔ انکے ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے جب امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ملک بھر میں طلبہ احتجاج کر رہے تھے اور حکومت کو میڈیکل داخلہ ٹیسٹ منسوخ کرنا پڑا تھا۔
سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن پرشانت بھوشن نے کہا کہ چیف جسٹس کے الفاظ نوجوانوں اور کارکنوں کے خلاف موجود گہری تعصب آمیز سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھوشن کے مطابق وہ کافی عرصے سے محسوس کر رہے ہیں کہ بھارت کو نوجوانوں کی ایک بڑی بیداری کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کی معیشت اور معاشرہ چند طاقتور سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے نقصان اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے امبانی اور اڈانی جیسے کاروباری خاندانوں کا حوالہ دیا جنہیں مودی حکومت کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
جسٹس کانت کے بیان پر غصے کا اظہار ایسے وقت میں بھی سامنے آیا جب بھارتی سفارت کار ناروے کے میڈیا کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے کیونکہ مودی نے اپنے دورۂ یورپ کے دوران صحافیوں کے سوالات لینے سے گریز کیا تھا۔
2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی نے کبھی کھلی پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا نہیں کیا بلکہ زیادہ تر ایسے انٹرویوز پر انحصار کیا جنہیں حکومت کے حامی صحافیوں نے منظم انداز میں کیا۔
بھوشن نے کہا کہ کچھ لوگ طنز اور مزاح کے ذریعے اپنی بات سے جڑتے ہیں، جیسا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے معاملے میں ہوا جبکہ کچھ لوگ اپنی مایوسی کے باعث اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب عوام سوال پوچھنے اور جواب طلب کرنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اہل ہوتے تو خود بھی اس پارٹی میں شامل ہو جاتے لیکن موجودہ شرائط کے مطابق وہ اس کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے اندر کیا ہے؟
دیپکے کی اس طنزیہ جماعت نے رکنیت کے لیے چار شرائط رکھی ہیں۔ بے روزگار ہونا، سست ہونا، ہر وقت آن لائن رہنا اور پیشہ ورانہ انداز میں شکایتیں کرنا جاننا۔
ایکس پر پارٹی کا نعرہ ہے کہ نوجوانوں کی، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے ایک سیاسی محاذ۔ سیکولر، سوشلسٹ، جمہوری اور سست۔
انسٹاگرام پر یہ جماعت خود کو سست اور بے روزگار کاکروچوں کی یونین کہتی ہے اور جین زی نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہے۔
سی جے پی کا منشور مودی حکومت پر ووٹروں کو متاثر کرنے کے الزامات، حکومتی موقف کے قریب سمجھے جانے والے کارپوریٹ میڈیا، اور ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کو سرکاری عہدے دئیے جانے جیسے معاملات پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتا ہے۔
دیپکے نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی پوسٹ کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر پارٹی کا پورا آن لائن ڈھانچہ تیار کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کلاڈ اور چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کیے تاکہ پارٹی کی شناخت اور منشور بنایا جا سکے۔ ان کی یہ کوشش دنیا بھر میں موجود اُن متبادل سیاسی تحریکوں کی روایت سے ملتی ہے جو طنز، مزاح اور غیر روایتی انداز کے ذریعے مرکزی سیاست کو چیلنج کرتی ہیں۔
یوٹیوبر میگھناڈ ایس جنہوں نے اپنی لائیو اسٹریم میں دیپکے کو مدعو کیا تھا نے کہا کہ یہ مذاق اب اپنی الگ زندگی اختیار کر چکا ہے اور نوجوان مسلسل انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ اس تحریک کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں میں واضح طور پر ایک احساس موجود ہے کہ وہ روایتی سیاست سے ہٹ کر نئی سیاسی شکلوں یا تجربات کی تلاش میں ہیں۔
میگھناڈ کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی حقیقت میں کوئی باقاعدہ جماعت نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ اسے موجودہ سیاسی حقیقت سے بہتر متبادل سمجھ رہے ہیں اور یہی بات بھارتی سیاست پر ایک بڑا تبصرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا میں صرف اس لیے پارٹی میں شامل ہوئے کیونکہ انہیں یہ مزاحیہ لگی تھی لیکن ان کے مطابق اندرونی طور پر وہ بھی اسی مایوسی کا شکار ہیں جس نے اس طنزیہ جماعت کو جنم دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جو چیز ایک مذاق کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ شاید دیپکے کے لیے محض مذاق نہیں رہی۔ وہ اس وقت اکیلے ہی اپنی پارٹی کو سنبھال رہے ہیں۔ دیپکے نے کہا کہ وہ سونے کا وقت قربان کر رہے ہیں تاکہ اس تحریک کی رفتار برقرار رہے اور ساتھ ہی مختلف سیاسی مسائل پر سوشل میڈیا مہمات بھی چلا رہے ہیں۔
ان کے بقول بھارت میں لوگ بہت عرصے سے خاموش تھے اور اب اس لمحے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے صرف ہنس کر آگے بڑھ جانا کافی نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








