بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ایک ہولناک خودکش دھماکہ پیش آیا ہے جس نے پورے علاقے کو لرزا کر رکھ دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں 20 افراد جاں بحق جبکہ 70 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریلوے ٹریک کے قریب ایک ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ٹرین پٹری سے اتر گئی جس سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دراز علاقوں تک سنی گئی جبکہ ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں بھی شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔
کوئٹہ چمن دھماکے کی شدت کا اندازہ لگائیں ۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز دھماکے کی شدت سے الٹ گئیں۔، گاڑیوں کی قطاریں جل گئی،آس پاس بلڈنگز کی چھتیں گر گئیں ۔کتنا بارود استعمال ہوا ہوگا کتنے معصوم پاکستانیوں کی جانیں گئیں ہونگی۔
اسلام سے پہلے… pic.twitter.com/5sjdfvJ9i7— Zeeshan Baber (@malik_baber) May 24, 2026
ابتدائی معلومات کے مطابق انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز دھماکے کی شدت سے الٹ گئیں اور آس پاس موجود گاڑیوں کو بھی آگ لگ گئی۔ بعض قریبی عمارتوں کی چھتیں بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
🚨 خوفناک : کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب کینٹ سے جانے والی ٹرین ریلوے ٹریک پر دھماکے کی زد میں آ گئی، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ خودکش حملہ ہو سکتا ہے، جبکہ جائے وقوعہ پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ ایمبولینسز اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں،… pic.twitter.com/mMzyNWWe2U— Shehzad nawaz (@sknawaz478) May 24, 2026
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں ایمبولینسز کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئیں تاہم ابتدائی مرحلے میں ہی علاقے میں شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں جس سے خوف و ہراس پھیل گیا مگر سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال پر قابو پا لیا۔
فتنہ ہندستان نے کوئٹہ میں ایک بار پھر معصوموں کا خون بہایا! چمن پھاٹک کے قریب عید کی چھٹیوں پر گھر جا رہے نہتے مسافروں، خواتین اور بچوں والی ٹرین پر بزدلانہ دھماکہ۔ شہیدوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، زخمیوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے۔ بھارت اور اس کے پراکسی دہشتگردوں کو واضح پیغام:… pic.twitter.com/hFUAkQQ2hx
— TARIQ MASOOD BUTT🇵🇰 (@BUTT_566) May 24, 2026
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ابتدائی بیانات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا جبکہ تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 20 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 70 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 8 لاشیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کی جا چکی ہیں جبکہ باقی جاں بحق افراد اور تمام زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی بھی دیکھنے میں آئی جہاں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا اور علاقے میں خوف کی فضا قائم ہو گئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کوئٹہ میں مسافر ٹرین پر ہونے والے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اور انسانیت سوز دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بنانا انسانی اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور ایسے حملے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور اس میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








