ذیابیطس ٹائپ 2 اور ہائی بلڈ شوگر دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے دائمی امراض میں شامل ہیں، جبکہ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ سرخ گوشت، خاص طور پر گائے کے گوشت کا زیادہ استعمال بلڈ شوگر بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ تاہم اب ایک نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کردیا ہے۔
امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے بلڈ شوگر، انسولین کے افعال یا جسم میں ورم پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
تحقیق کے دوران 18 سے 74 سال کی عمر کے 24 افراد پر کلینیکل ٹرائل کیا گیا، جو زائد وزن یا موٹاپے اور ہائی بلڈ شوگر کا شکار تھے، تاہم دیگر لحاظ سے صحت مند تھے۔
محققین نے شرکا کو 28، 28 دن کے دو مختلف غذائی پلانز پر عمل کرایا۔ ایک مرحلے میں روزانہ دو مرتبہ کھانے میں گائے یا مرغی کے گوشت کا استعمال کرایا گیا، جبکہ روزانہ تقریباً 100 گرام گوشت شامل تھا۔ اس کے بعد 28 دن تک انہیں گوشت سے دور رکھا گیا۔
تحقیق کے دوران انسولین حساسیت، بلڈ شوگر اور دیگر میٹابولک عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے بلڈ شوگر یا انسولین حساسیت میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔
محققین کے مطابق گائے اور مرغی کے گوشت کے ہائی بلڈ شوگر کے مریضوں پر مرتب ہونے والے اثرات تقریباً ایک جیسے پائے گئے، جبکہ گائے کے گوشت سے میٹابولک صحت پر منفی اثرات یا ورم بڑھنے کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔
ماہرین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کا دورانیہ محدود تھا، تاہم اس مدت میں بھی غذا کے میٹابولک اثرات واضح ہو جاتے ہیں۔
یہ تحقیق طبی جریدے “کرنٹ ڈویلپمنٹ اِن نیوٹریشن” میں شائع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ ذیابیطس ٹائپ 2 ایسی بیماری ہے جس میں جسم انسولین کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا، جس کے باعث بلڈ شوگر خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے اور وقت کے ساتھ دل، آنکھوں، اعصاب اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








