بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات بلا شبہ حالیہ دنوں پیش آنے والے بد ترین واقعات میں سے ایک ہیں، تاہم تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں جو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ہے۔

اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو مسلمانوں کے ساتھ ظلم و تشدد کے واقعات کے سرے مسلمانوں کی حکمرانی کے بعد انگریزوں کے برصغیر پر تسلط کے دور سے جا ملتے ہیں جس کے بعد دو قومی نظریہ آیا جو آج بھی سچ ثابت ہور ہا ہے۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کی الگ قومیت
جب تک برصغیر پر مسلمانوں نے حکومت کی، ہندو عوام ان کے ساتھ مل جل کر رہتے آئے اور کسی بھی طرح یہ تاثر پیدا نہ ہوسکا کہ وہ مسلمانوں سے الگ اپنا کوئی تشخص رکھتے ہیں۔

مسلمانوں کا سب سے بڑا جھگڑا ہندوؤں کے ساتھ یہ تھا کہ اسلام میں گائے کا گوشت کھانا جائز قرار دیا گیا ہے جبکہ ہندوؤں کے نزدیک گائے کی حیثیت ماں کی سی ہے۔
ہندو نہ صرف یہ کہ اس کا گوشت نہیں کھاتے بلکہ اس کے گوبر کو بھی مقدس جانتے ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ دور میں پیدا ہونے والے کورونا وائرس کا علاج گائے کے پیشاب میں تلاش کیا جارہا ہے۔
تشدد پسند ہندوؤں نے گائے کو جواز بنا کر مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے اور ان کا جہاں جہاں موقع ملا ، قتلِ عام بھی کیا۔ برصغیر اور موجودہ جدید بھارت کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ اس سے الگ قومیت کا نظریہ ابھرا۔
دو قومی نظریہ کیا ہے؟
قومی رہنما سر سیّد احمد خان نے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے بہت کام کیا اور انگریزوں اور ہندوؤں کےساتھ راہ و رسم بڑھانے کے لیے بعض ثقافتی و مذہبی روایات سے اختلاف کیا جس کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا بھی ہوا۔

سر سیّد احمد خان نے بہت پہلے یہ بھانپ لیا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ان کے علاوہ برصغیر کی تاریخ کے بڑے رہنماؤں نے آگے چل کر اس نظرئیے کو سمجھا جسے قائدِ اعظم نے دو قومی نظریےکے نام سے اپنایا۔

قائدِ اعظم نے دو قومی نظرئیے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمان جو آج ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان نہیں جانا چاہتے، اپنی پوری زندگی خود کو بھارتی شہری ثابت کرنےمیں لگا دیں گے۔
بانی پاکستان قائدِ اعظم کادو قومی نظریہ آج سر چڑھ کر اپنی حقیقت بیان کررہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نظرئیے کی سچائی خون کی ندیاں بہاتے ہوئے ثابت ہورہی ہے۔حقیقت بے حد سفاک ہے۔
بھارت میں مذہبی آزادی کا تصور
دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کا دعویدار بھارت اپنے آئین کے تحت مذہبی آزادی کو ایک بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ بھارتی آئین کی شق 25-28 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔
سن 1976ء میں بھارت کے آئین میں ایک ترمیم کی گئی جس کے تحت اسے سیکولر ریاست قرار دے دیا گیا یعنی ہندو مت اور اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب بھارت کا سرکاری مذہب کہلوانے کا دعویدار نہیں ہوسکتا۔
بھارت ایک سیکولر ریاست ہے تاہم موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ہندوتوا نظرئیے کے پیروکار آج بھی اپنے ہی ملک کے بانی مہاتما گاندھی کو گالیاں دیتے ہیں اور چیختے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔

بھارت میں مذہبی تشدد اور فسادات کے متعدد واقعات رونما ہوئے جن میں 1984ء کے سکھ مخالف فسادات، گجرات میں 2002ء میں مسلم مخالف فسادات اور 2008ء میں مسیحی مخالف فسادات شامل ہیں۔
قیامِ پاکستان کے موقعے پر بھی فسادات رونما ہوئے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر پاکستان جانے والی ایک پوری ٹرین کے مسافروں کو قتل کر ڈالا اور جب وہ پاکستان پہنچی تو اس میں شہداء کی لاشوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔
ہندو مسلم فسادات کی تاریخ بے حد طویل ہے جن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا، تاہم یہ فسادات صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوئے۔ ہم چند چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کریں گے۔
فسادات کی مختصر تاریخ
سن 1947ء میں تقسیم ہند کے موقعے پر ہونے والے فسادات میں ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد کا قتلِ عام کیا گیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔سن 1948ء میں حیدر آباد دکن کو غیر مسلح کیا گیا جس کے بعد ہندوؤں نے قتلِ عام شروع کردیا جس کے دوران 27 سے 40 ہزار مسلمان شہید ہو گئے۔ سن 1969ء میں بھارتی صوبے گجرات میں ہندو مسلم فسادات کے دوران 660 افراد قتل کردئیے گئے جن میں سے 430 مسلمان تھے۔
![]()
اس کے بعد 1976ء میں ترکمان گیٹ کے انہدام پر فسادات ہوئے جن کے دوران پولیس نے دہلی سے تعلق رکھنے والے 150 افراد کو قتل کردیا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد 31 جنوری 1979ء کو مغربی بنگال میں مشرقی پاکستان سے آنے والے افراد کا قتلِ عام ہوا جس کے دوران سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کردیا گیا۔
بعد ازاں 1980ء میں مراد آباد میں فسادات ہوئے جن کے دوران بھارتی ریاست یو پی (اترپردیش) میں ڈھائی ہزار افراد کو قتل کردیا گیا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔اس کے بعد 18 فروری 1983ء کو نیلی قتلِ عام کا واقعہ ہوا۔ آسام میں 2191 مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ اس کے بعد سکھ مخالف فسادات شروع ہوئے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 2 نومبر 1984ء کو شروع ہونے والے فسادات میں ملک بھر میں 2800 سے زائد سکھوں کو قتل کردیا۔
تین سال بعد 22 مئی 1987ء کو میرٹھ اور اتر پردیش میں 42 مسلمانوں کو قتل کردیا گیاجسے ہاشم پورہ قتلِ عام کہا جاتا ہے۔ اکتوبر 1989ء میں بہار کے علاقے پھاگل پور میں 1000 لوگ قتل ہوئے جن میں سے 900 مسلمان تھے۔ اس کے بعد 20 جنوری 1990 کو کشمیریوں کا قتلِ عام کیا گیا جس کے دوران 50 کشمیری مظاہرین شہید ہو گئے۔ 30 اکتوبر 1990ء کو ایودھیا میں 200 مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔
دو سال بعد دسمبر 1992ء سے جنوری 1993ء تک ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت پر ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے جن کے دوران 575 مسلمان شہید ہوئے جسے بمبئی فسادات کہا جاتا ہے۔اس کے بعد 22 اکتوبر 1993ء میں 55 مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔اس کے بعد 20 مارچ 2000ء کو کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں 36 سکھوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
مزید دو سال بعد سن 2002ء میں بھارتی علاقے گجرات میں 28 فروری کو تقریباً 2100افراد کو قتل کیا گیا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔اس کے بعد اگست 2008ء میں بھارتی ریاست اڑیشہ میں 42 مسیحیوں کو قتل کردیا گیا۔اس کے بعد جولائی 2012ء میں آسام میں 77 افراد کو قتل کردیا گیا۔ یہ بھی ایک متعصبانہ قتلِ عام تھا جس کے دوران زیادہ تر مسلمان شہید ہوئے۔
اگلے سال یعنی 2013ء میں مظفر گڑھ فسادات کے دوران اتر پردیش کے علاقے مظفر گڑھ میں 62 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ 93 افراد زخمی بھی ہوئے۔
موجودہ دہلی فسادات
موجودہ مسلم کش فسادات کے دوران ہندوتوا کے تشدد پسند ہندوؤں کے جتھے مسلمانوں کی آبادیوں پر حملہ آور ہیں جس کے دوران اب تک 50 کے قریب مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے اور سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔
![]()
دہلی فسادات متنازعہ شہریت بل کے خلاف مظاہروں کے دوران اس وقت شروع ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دو روزہ دورے پر تھے جس پر عالمی برادری کی طرف سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔
دو قومی نظرئیے کی سچائی
دو قومی نظرئیے کی سچائی یہ ہے کہ بھارتی ہندو مسلمانوں کو آج تک اپنا نہیں سمجھ سکے۔ مسلمانوں میں سے کتنے ہی افراد نے اپنے نام مسلمانوں جیسے رکھتے ہوئے ساری ہندووانہ رسومات اپنا لیں اور ہندوؤں سے شادیاں تک کیں۔
![]()
اسلامی اصولوں کے خلاف چل کر بھی مسلمان ہندوؤں کو اپنا نہ بنا سکے۔ مسلمان اور ہندو کل بھی الگ تھے اور آج بھی الگ الگ شناخت رکھتے ہیں۔ بھارت سیکولر ملک کہلانے کے باوجود تعصب اور انتہا پسندی کا گڑھ بن چکا ہے۔
یہ ہے وہ دو قومی نظریہ جس کا آج سے تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے سر سیّد احمد خان اور آج سے تقریباً 70 یا 80 سال قبل قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پرچار کیا تھا اور جسے مجبوراً یا مصلحتاً نہ ماننے والے آج ایک عذاب میں مبتلا ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








