موجودہ دور کو دورِ فتن بھی کہتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہاں وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ بچوں کو لڑکپن اور لڑکوں کو جوانی میں داخل ہوتے دیر نہیں لگتی۔
خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے والدین کو یہ کہتے ہوئے بارہا سنا گیا ہے کہ ہماری بچیاں کب جوان ہو کر ہمارے قد کے برابر آ گئیں، ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔ یہ وقت کی تیز رفتاری کی ایک سادہ سی مثال ہے۔
![]()
نوجوانی کا دور جوش و جذبے، قوتِ اظہار اور دل میں چٹکیاں لیتے مخالف صنف کیلئے محبت کے جذبات سے معمور ہوتا ہے۔ اس دور میں اگر کسی نوجوان لڑکے کو لڑکی کی طرف اور لڑکی کو لڑکے کی طرف کوئی رغبت نہ ہو تو اس کی انسانیت پر شک کیا جاتا ہے۔
آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ پہلی نظر میں محبت کی حقیقت کیا ہے۔ اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ محبت کیا ہے اور یہ ہوتی کیسے ہے؟
محبت کسے کہتے ہیں؟
محبت ایک بے بہا اور لافانی جذبہ ہے جسے نوجوان لڑکے اور لڑکی کی آپس میں فطری کشش تک محدود کرنا ناانصافی ہوگی کیونکہ محبت ایک بھائی کو بہن سے، باپ کو اولاد سے اور بچوں کو والدین سے ہر دور میں ہوتی ہے۔

دنیا کے بڑے بڑے ادیبوں، فلسفیوں اور دانشوروں نے محبت پر قلم اٹھایا تو الفاظ کے دریا بہا دئیے لیکن آج بھی نثر اور نظم کی صورت میں محبت پر کتابیں تحریر کرنے کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔
دراصل محبت احساس، ایثار، اعتماد اور باہمی خلوص کے اس لازوال رشتے کو کہتے ہیں جس کے تحت ایک انسان اپنے خدا، پیغمبرِ اسلام ﷺ، اولیائے کرام، والدین، رشتہ داروں، عام انسانوں، حتیٰ کہ جانوروں کیلئے بھی اپنا سب کچھ وقف کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے۔
دستیاب تاریخِ انسانی میں محبت کی ایسی ایسی لازوال داستانیں موجود ہیں جنہیں پڑھ کر انسان آج بھی حیران ہوتا ہے کہ محبت کی آج تک جتنی بھی تعریفیں کی گئیں وہ کم ہیں۔ محبت کی ہر نئی داستان اس کی ایک الگ تعریف بیان کرتی ہے۔
محبت کی اقسام
محبت کی سب سے پہلی قسم اس بچے کے دل میں ہوتی ہے جو اپنی ماں کی گود میں پہلی بار آنکھ کھولتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو پہچاننا اور اس سے محبت کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ اس سے دیوانوں کی طرح پیار کرتا ہے۔

اگر ماں اسے کھانا نہ کھلائے تو وہ کسی اور کے ہاتھ سے کچھ نہیں کھاتا۔ ماں کپڑے پہنانے کے لیے موجود نہ ہو تو انہیں اٹھا کر دور پھینک دیتا ہے۔ اسے زندگی کی ہر ضرورت کی تکمیل اپنی ماں اور باپ کی ذات میں نظر آتی ہے۔ یہ محبت کی پہلی قسم ہے۔
آگے بڑھتے ہیں۔ بچہ اپنے بہن بھائیوں کو دیکھتا ہے۔ بہن بھائی اسے گود میں اٹھا کر پیار کرتے ہیں۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ ساتھ یہ بہن بھائی بھی مجھے پیار کرتے ہیں۔ مجھے بھی ان سے محبت کرنی چاہئے اور یوں محبت کی دوسری قسم یعنی بہن بھائی سے محبت شروع ہوجاتی ہے۔
اس سے آگے چل کر جب بچہ تھوڑا سا شعور سنبھالتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ دنیا اس کے گھر سے بڑی ہے۔ یہاں اور لوگ اور رشتہ دار بھی موجود ہیں جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ محبت بہن بھائی اور والدین جیسی نہیں ہے۔ ان سے ایک درجہ کم سطح پر موجود ہے۔ وہ ان سب سے دوستی کر لیتا ہے۔ دوستی بھی محبت کی ایک قسم ہے۔ یہ تیسری قسم سمجھ لیجئے۔

محبت کا اگلا مرحلہ شریکِ زندگی کے انتخاب سے شروع ہوتا ہے۔ بعض اوقات شادی سے پہلے اور بعض مرتبہ شادی کے بعد بیوی سے محبت ہوجاتی ہے کیونکہ والدین اور بہن بھائی کے بعد اگر خاندان میں کوئی شخص آپ کے خاندان کا حصہ ہوتا ہے تو وہ بیوی یا شوہر ہے۔جیسے جیسے زندگی آگے بڑھتی ہے محبت کی نت نئی اقسام سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔
دوستی اور محبت میں فرق
محبت دوستی کا ایک حصہ ہے اور دوستی محبت کی ایک قسم ہے۔ دوستی اور محبت میں فرق یہ ہے کہ محبت یکطرفہ ہوسکتی ہے یعنی یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی سے محبت کریں اور وہ آپ سے نہ کرے لیکن دوستی میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فلاں میرا دوست ہے اور دوسرا اس سے انکار کرے تو انکار کرنے والے کی بات مانی جائے گی۔

آپ جس سے محبت کرتے ہیں اس سے کسی نہ کسی سطح پر دوستی بھی قائم ہوتی ہے اور جسے آپ اپنا دوست بناتے ہیں اس سے کسی نہ کسی سطح پر محبت بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں جذبات ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں۔
پہلی نظر میں محبت کس سے ہوتی ہے؟
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ والدین ، بہن بھائی، اساتذہ یا رشتہ داروں سے محبت پہلی نظر میں ہونا کوئی عقل میں آنے والی بات نہیں کیونکہ وہ لوگ تو آپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ پہلی نظر میں محبت اس سے ہوتی ہے جسے پہلی بار دیکھا جائے۔
جسے آپ پہلے سے نہیں جانتے، جب پہلی بار اس سے ملاقات ہوتی ہے تو پہلی نظر میں محبت بھی عین ممکن ہے۔ لہٰذا عام طور پر یہ محبت ایک لڑکے اور لڑکی کی آپس میں محبت ہوتی ہے جبکہ ہم جنس افراد میں محبت کو دوستی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔

جب ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ نظر ایک نکتے پر جم جاتی ہے جس سے ہمارا مذہب اسلام ہمیں روکتا ہے لیکن وہ نوجوان ہی کیا جو اسلامی اصولوں کی مخالفت نہ کریں۔
یہاں ہمارا مدعا یہ نہیں کہ جو لوگ اسلام کی مخالفت نہیں کرتے وہ نوجوان نہیں ہوتے یا ان میں کوئی بوڑھی روح گھسی ہوئی ہوتی ہے بلکہ یہ ایک عام روش ہے کہ نوجوان طبقہ عام طور پر اسلامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرپاتا۔
آگے چلتے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ آپ کی نظر ایک نکتے پر مرکوز کیوں ہوتی ہے؟ کوئی صورت آپ کو پسند کیسے آتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوانی وہ عمر ہے جس میں انسان کا حسن عروج پر ہوتا ہے۔ وہ کسی کو بھی اپنی طرف آسانی سے متوجہ کرسکتا ہے۔
محبت کی تلخ حقیقت
کچھ لوگوں کی رائے محبت کے بارے میں فلمی ہوتی ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا نے ہمارے لیے کوئی ایک فرد پیدا کیا ہے اور ہم اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کسی اور کی طرف نہیں دیکھ سکتے۔
اگر یہ حقیقت ہے تو دل پھینک افراد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہوگی جو ہر دوسری صورت دیکھ کر اسے دل دے بیٹھتے ہیں؟ ایک محبت کے بعد انہیں دوسری، تیسری اور چوتھی محبت ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








