آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری ہولی کا مذہبی تہوار منا رہی ہے جس کے دوران ہولی کی مختلف تقریبات منعقد ہوں گی جن میں رنگ بکھیرنا، ایک دوسرے کے چہرے پر رنگ لگانا، مذہبی عبادات، گیت اور رقص سمیت خوشی کے اظہار کے اَن گنت طریقے شامل ہیں۔

ہندو مت دُنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے جس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد ہمسایہ ملک بھارت، جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک بشمول پاکستان اور نیپال سمیت ویسٹ انڈیز تک میں پھیلی ہوئی ہے۔

ہولی کے تہوار کے موقعے پر ہمارا سوال یہ ہے کہ ایک ہندو مت کے پیروکار کے لیے ہولی کا تہوار کیا معنی رکھتا ہے؟ آج ہم اِس تہوار کی تاریخی و مذہبی حیثیت سمیت دیگر مختلف سوالات کے جوابات تلاش کریں گے۔
ہولی کی تاریخی حیثیت
ہندو مت کے ماننے والوں نے ہولی کے تہوار کا آغاز برصغیر سے کیا جبکہ ہندو مت کا مذہب نیپال کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی موجود تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مذہب سے زیادہ ہولی کی حیثیت ایک ثقافتی تہوار کی ہے۔

بھارت، نیپال اور ویسٹ انڈیز سمیت مغربی دنیا میں موجود ہندو برادری بھی ہولی کا تہوار جوش و خروش سے مناتی نظر آتی ہے۔ اسے رنگوں اور محبت کا تہوار سمجھا جاتا ہے۔
ہولی کیوں منائی جاتی ہے؟
ہولی کا تہوار برائی پر اچھائی کی فتح کا تصور واضح کرتا ہے۔ عوام کے نزدیک موسمِ سرما کا اختتام اور بہار کی آمد ہی ہولی کے تہوار کو منانے کی ایک واضح دلیل فراہم کرتی ہے۔
اس تہوار کے دوران لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ سماجی میل جول بڑھتا ہے۔ بڑی بڑی غلطیاں ہنس کر معاف کردی جاتی ہیں۔ ٹوٹے ہوئے رشتے بحال کیے جاتے ہیں۔

اگر ہم کسانوں کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ہولی اچھی فصل پانے پر خدا کا شکر ادا کرنے کا تہوار ہے۔ ہندو مت میں خدا کا تصور صرف بت پرستی کا نہیں بلکہ اگر کوئی شخص اللہ کو خدا مانے تو ہندو برادری اسے بھی مذہب سے خارج قرار نہیں دیتی۔
مسلمانوں کے لیے ہولی کا مطلب؟
قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کیا جبکہ اِس ملک کا دفتری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ ایک اسلامی ملک میں ہولی کا تہوار کیوں منایا جاتا ہے؟

اس تلخ مگر حقیقت پر مبنی سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کوئی تنگ نظر مذہب نہیں ہے جو مذہبی آزادی پر قدغن لگائے۔ اسلامی ملک کے طور پر پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں اور ہندو برادری کو بھی ملک میں تہوار منانے اور خوشی کے مواقع پر اظہارِ مسرت کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ ایک مسلمان کو حاصل ہوسکتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے ہولی جیسے تہوار میں شرکت کرنا، ہندوؤں سے مصافحہ کرنا اور ان کی خوشیوں میں شریک ہونا ایک قابلِ تعریف عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کسی تعصب کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
پاکستان میں ہولی منانے کا لطف
پاکستان میں رہنے والی ہندو برادری کا ملکی معاملات اور عوام الناس کی زندگی سے لے کر سیاسی سطح تک ایک تسلیم شدہ اور قابلِ قدر کردار ہے۔ یہاں اقلیتوں کو حاصل تحفظ کے پیش نظر ہندو برادری بھی وطنِ عزیز پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی کہ ہمیں اِس ملکِ خداداد سے ہے۔

کراچی اور لاہور سمیت ملک کے ہر شہر میں رہنے والے ہندو عوام وطنِ عزیز میں اپنی مذہبی و ثقافتی روایات کے تحت ہولی کا تہوار مناتے ہیں جس کے دوران رنگ بکھیرنے اور رقص و سرود سمیت تہوار کے دیگر لزومات پر پورے جوش و خروش سے عمل کیاجاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزراء اور صدرِ مملکت نے ہولی کے تہوار پر آج ہندو برادری کو مبارکباد پیش کی ہے جس سے پاکستان میں ہولی کے تہوار کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
وطنِ عزیز میں ہندو برادری جب ہولی کا تہوار مناتی ہے تو اس میں ملک کے سیاسی و سماجی رہنما، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی و سینیٹ اور زندگی کے تمام شعبہ جات سے اہم شخصیات شرکت کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
ہولی بطور ایک سماجی و ثقافتی سرگرمی
مذہبی تہوار ہمیں ایک دوسرے سے میل جول اور راہ و رسم بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی مختلف مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کا پتہ چلتا ہے جس سے ہم ایک دوسرے کو سمجھنا شروع کرتے ہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








