پاکستان سمیت دُنیا بھر میں آج گردوں کا عالمی دن یعنی ورلڈ کڈنی ڈے منایا جارہا ہے۔ ہر عالمی دن کی طرح اِس دن کو منانے کا مقصد بھی اس موضوع پر عوام میں آگہی پیدا کرنا ہے۔

آج ہم گردوں کے عالمی دن کے موقعے پر یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ گردوں کا ہمارے جسم میں کیا کردار ہے؟ گردوں کے عالمی دن کی تاریخ کیا ہے اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اس دن ہمارے فرائض کیا ہیں۔
گردوں کے عالمی دن کی تاریخ
گردوں کا عالمی دن سب سے پہلے 2006ء میں منایا گیا اور ہر آنے والے سال اِس دن کے موضوعات بدلتے رہے، تاہم مرکزی موضوع ایک ہی رہا یعنی انسانی جسم میں گردوں کے افعال اور اس حوالے سے عوام میں بڑھتے ہوئے امراض کے حوالے سے آگہی پیدا کرنا۔

سب سے پہلے سن 2006ء میں اِس دن کا موضوع رکھا گیا کہ ”کیا آپ کے گردے درست کام کر رہے ہیں؟” جس کا مقصد عوام الناس میں گردوں کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔
اگلے سال 2007ء میں گردوں کی ایک بیماری سی کے ڈی کے حوالے سے موضوع رکھا گیا کہ یہ ایک نقصان دہ، عام اور قابلِ علاج مرض ہے۔ سن 2008ء میں اس کاموضوع آپ کے حیران کن گردے رکھا گیا جس کے تحت عوام کو بتایا گیا کہ گردے ہمارے جسم میں کیا حیران کن افعال سرانجام دیتے ہیں۔
سن 2009ء میں گردوں کی حفاظت کا موضوع رکھا گیا۔ سن 2010ء میں شوگر کنٹرول کرکے گردوں کی حفاظت کرنے کی ترغیب دی گئی۔ سن 2011ء میں اپنے دل کی حفاظت کرکے گردوں کی سلامتی کے مختلف طریقہ ہائے کار بیان کیے گئے۔ سن 2012ء میں گردوں کو عطیہ کرنے کے حوالے سے موضوعات زیرِ بحث آئے۔
اس کے بعد سن 2013ء میں گردوں کے اٹیک یعنی مرض کو روکنے کے حوالے سے کام کیا گیا۔ سن 2014ء میں سی کے ڈی (کرونک کڈنی ڈزیز) اور عمر رسیدگی کے باہمی تعلق کو موضوع بنایا گیا۔ سن 2015ء میں گردوں کی صحت سب کے لیے کے عنوان سے عوام کو گردوں پر عمومی آگہی فراہم کی گئی۔ 2016ء میں بچوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
بعد ازاں سن 2017ء میں گردوں کے امراض کا موٹاپے سے تعلق بیان کیا گیا جس میں صحت مند طرزِ زندگی کو اہم قرار دیا گیا۔ سن 2018ء میں گردوں کے امراض اور خواتین میں امورِ صحت کو موضوع بنایا گیا جبکہ سن 2019ء میں ہر ایک کے لیے گردوں کے امراض سے صحت پر آگہی فراہم کی گئی۔
عالمی دن 2020ء کا موضوع
رواں سال یعنی 2020ء کے دوران گردوں کے عالمی دن کا موضوع ”صحت ہر ایک کے لیے“ رکھا گیا ہے جس میں گردوں کے امراض سے احتیاطی تدابیر، تشخیص اور علاج تک رسائی کے تمام معاملات شامل ہیں۔

سن 2020ء کا یہ موضوع گردوں کے امراض کے حوالے سے بے حد اہم ہیں۔ ہمارے جسم میں ہر عضو کی اپنی انفرادیت اور اہمیت ہے جبکہ گردے جسم کے نظامِ اخراج میں انتہائی اہم کردار کے حامل ہیں۔
گردوں کے افعال
گردوں کا عالمی دن کیوں منایا جارہا ہے؟ اس اہم سوال کا جواب ہمیں اُس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک ہم یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے گردے ہمارے جسم میں کیوں پیدا کیے اور یہ کیا کام کرتے ہیں۔
گردے ہمارے جسم میں جمع ہونے والے استعمال شدہ پانی کو ذخیرہ کرکے پیشاب کی صورت عطا کرتے ہیں جس کے بعد وہ جسم سے خارج ہونے کے قابل بنتا ہے۔ ہمارے خون سے فضلے اور زائد مائع کو خارج کرنا بھی گردوں کا ہی کام ہے۔

ہمارے جسم میں ہر لحظہ کیمیائی افعال واقع ہو رہے ہیں جس کی بڑی مثال نظامِ ہضم اور خون میں توانائی کا پیدا ہونا ہے۔ گردے ہمارے جسم کے کیمیائی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہو تو یقیناً اس کے گردوں میں کسی نہ کسی سطح پر ضرور خرابی موجود ہوتی ہے کیونکہ گردوں کا کام بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں معاونت فراہم کرنا بھی ہے۔

ہڈیوں کا ہمارے جسم میں ایک پورا نظام موجود ہے جسے نظامِ استخوان کہتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نظام میں صرف ہڈیاں ہی اہم ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گردے بھی ہماری ہڈیوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
خون ہمارے جسم کی مختلف رگوں میں انتہائی تیزی سے حرکت کرتا ہے اور یہ ہمارے جسم کا 50 فیصد سے زائد حصہ ترتیب دیتا ہے۔ گردے یہاں بھی خون کے سرخ خلیے بنانے میں معاونت فراہم کرکے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
امراضِ گردہ اور تشخیصی علامات
دُنیا بھر میں ہر سال 50 ہزار سے زائد افراد گردوں کے کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملتے ہیں۔ اِس کی بڑی وجوہات میں شعور و بیداری کی کمی کے ساتھ ساتھ گردے عطیہ نہ کرنا بھی شامل ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد امراضِ گردہ میں مبتلا ہیں جن میں ہر سال 15 سے 20 فیصد اضافہ ہورہا ہے جو بے حد تشویشناک ہے۔

گردے کے امراض کی مختلف علامات میں بے خوابی، پٹھوں یعنی مسلز کا اکڑ جانا، جسمانی کمزوری، سردرد، تھکاوٹ، دل کی دھڑکن میں مسائل، خارش زدہ اور خشک جلد، جی متلانا اور سانس کی بو کا بدل جانا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پیشاب ضرورت سے زیادہ یا کم آنا، پاؤں، ٹخنوں اور ہاتھوں میں سوجن، آنکھیں پھولنا، کمر درد، پیشاب کی رنگت کا بدلنا اور ہائی بلڈ پریشر شامل ہیں۔ مختلف امراضِ گردہ کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں۔
امراضِ گردہ کا علاج اور ہمارے فرائض
صحت مند طرزِ زندگی سے گردوں سمیت دیگر مختلف جسمانی و ذہنی مسائل سے چھٹکارہ آسان ہوتا ہے۔ مناسب خوراک، الکوحل کا استعمال نہ کرنا، مناسب نیند لینا، پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور بلڈ پریشر کا خیال رکھنا امراضِ گردہ سے بچاؤ کی اہم احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








