ڈینیئل پرل قتل کیس: عمرسعید شیخ کی سزائے موت کالعدم ، تین ملزمان رہا

تازہ ترین

تازہ ترین

govt imposes ban without any exception on pillion riding: High Court

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں ملوث اہم ملزم عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تین ملزمان کو بھی بری کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کردیا،عدالت نے دیگر تین ملزمان فہد نسیم ، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو رہا کردیا۔

جسٹس محمد کریم خان آغا نے ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کی سربراہی کی اور گذشتہ ماہ اپیلوں اور سرکاری وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ان چاروں افراد کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

وکلاء رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ سزا یافتہ افراد کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ

وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں قانونی چارہ جوئی کے گواہ زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں جن کی شہادتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

وکیل نے مزید لائل دیئے کہ جرم کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے اور استغاثہ نے سزا کے لئے انتہائی ضعیف حالات پر انحصار کیا۔

کیس سے متعلق تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سندھ ہائی کورٹ  بنچ نے تین ملزمان کو بری کردیا اور ڈینیئل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم کی سزا کم کردی۔

امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو23 جنوری 2002 کو کراچی میں اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں اغوا کاروں نے ان کا سر قلم کیا تھا۔

Related Posts