کراچی: وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ یکساں تعاون کر رہی ہے، کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہورہی، مراد علی شاہ اجلاس میں اتفاق کرتے ہیں لیکن بلاول بعد میں کچھ اور بیان دیتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، جس طرح پاکستان نے کورونا کے خلاف حکمت عملی اپنائی کسی اور ملک نے نہیں اپنائی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث بڑے بڑے امیر ملکوں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق صوبوں کی پوری مدد کر رہا ہے۔سارے معاملات میں صوبوں کو ساتھ لے کر چلے۔ این ڈی ایم اے نے تمام صوبوں میں یکساں سامان تقسیم کیا۔ ہم نے کسی صوبے بارے یہ نہیں سوچا کہ وہاں ہماری حکومت نہیں ہے۔سب صوبوں کو انصاف کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔
حکومت کے احساس کیش پروگرام نے لوگوں کوبھوک سے بچایا، انہوں نے کہا کہ جب تک شہری ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے، کورونا وائرس کیخلاف کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی، ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں پر لوگ احتیاطی تدابیر کو سنجیدہ نہیں لیتے، وزیر اعظم نے واضح کیا کہ جہاں ہاٹ اسپاٹ ہوگا وہاں ایکشن لیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ہر فیصلے سے پہلے صوبوں کو آن بورڈ لیا۔ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ سخت لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہئے، لیکن سندھ حکومت نے مجھ سے مشاورت کئے گئے بغیر لاک ڈاؤن کیا۔ ان کے لاک ڈاؤن کرنے کے بعد دیگر صوبوں نے بھی کردیا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لیے ٹیلی میٹری سسٹم لائیں گے، اس سسٹم کو جان بوجھ کر نہیں چلنے دیا جاتا۔ ہم انکوائری کروائیں گے کہ اس نظام کو کون خراب کر رہا ہے، جو بھی اس میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم پاکستان کا بہترین لوکل گورنمنٹ سسٹم لا رہے ہیں اور براہ راست پیسہ ولیج کونسل کو منتقل کریں گے، 24 سال سے کہہ رہا ہوں اختیارات کو نچلی سطح منتقل کیا جائے۔اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے تو لوگوں کے مسائل باآسانی حل ہوسکیں گے۔