مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ اور دنیا کی مہذب اقوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ا یزا رسانی اور بدترین ریاستی تشدد کے شکار عوام کو ظلم، نا انصافی اور بربریت سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہو ئے غلامی اور استعماریت پر استوار نظام کو زمین بوس کرنے میں کشمیریوں کی مدد کریں۔
سردار مسعور خان نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتینو گتریس کے اس بیان کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ انسانوں کو ایزا پہنچانے والوں کو اپنے جرائم سے بچ نکلنے کا کوئی موقع نہیں ملنا چاہیے۔ اور وہ نظام جو ا ایزارسانی کا سبب بنتا ہے اور سہولت فراہم کرتا اُسے ہر صورت ختم یا تبدیل کیاجانا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ سیکرٹری جنرل جب دنیا میں ٹارچر کے شکار لوگوں کی بات کرتے ہیں تو وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو ہر گز نظر انداز نہ کریں جہاں لاکھوں انسان بدترین غیر انسانی مظالم اور ریاستی مشینری کے ہاتھوں ذہنی اور جسمانی ا یزارسانی سے دو چار ہیں۔
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ایزا رسانی بین الاقوامی قانون کے تحت ایک غیر قانونی عمل ہے جس کی تمام مذاہب میں ممانعت ہے لیکن یہ عمل مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی قابض فوج ہر روز براہ راست دوہراتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر دو بار قبضہ کر کے اور ریاست کے 14 ملین لوگوں کی مرضی و منشا کے خلاف اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے برا ہ راست نئی دہلی کے ماتحت کر دیا ہے اور اس طرح ریاست کے لاکھوں لوگوں کو شدید ا یذیت اور کرب سے دو چار کر دیا ہے۔
اس وقت جبکہ دنیا ا یزا رسانی کے شکار افراد کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن منا رہی ہے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نوجوانوں کاپیچھا کر کے اُنہیں بے رحمی سے قتل کر رہی ہے، مظالم کے خلاف پر امن مظاہرہ کرنے والوں کی آنکھوں کا نشانہ لے کر اُنہیں بینائی سے محروم کر رہی ہے اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
قبل ازیں ایک نجی ٹیلی ویژن کے ہارڈ ٹاک پاکستان پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کا ملاپ کشمیر میں ہوتا ہے جب تک مسئلہ کشمیر کو حق و انصاف، کشمیریوں کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل نہیں کیا جائے گا تو لداخ جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ لداخ میں چین اور بھارت کی فوجوں کے درمیان تصادم اور اُس کے بعد دونوں ملکوں کی سول و فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت کے تحریک آزادی کشمیر اور کشمیر یوں کی حق خود ارادیت کی تحریک پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے لداخ کشیدگی کے بعد جہاں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پر اُجاگر ہوا ہے وہاں دنیا کو یہ بھی احساس ہوا کہ خطہ کی تین جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والے تنازعہ کشمیر کا مستقل اور دیر پا حل نا گزیر ہے۔