اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی شہبازگل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزشن چند دن سے پی آئی اے پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے،2010سے 2013 تک پائلٹس کے 76 بے قاعدہ لائسنز ایشو کیے گئے۔
شہبازگل نے کہا کہ ان کو لگ رہا ہے کہ مگرمچھ کے آنسو بہانے سے ان کو جواب نہیں دینا پڑے گا، مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کی ائیرلائن جو پچھلے آٹھ 10 سال میں خوب پھلی پھولی۔
انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان اور میاں نوازشریف کے دورمیں پائلٹس کے 180 بے قاعدہ لائسنس ایشو کیے گئے، اوپر سے نیچے تک یہ سب کرپٹ تھے، انہوں نے اپنے لوگوں کی بھرتیاں کیں۔
شہبازگل نے کہا کہ2010سے 2018 تک کا فرانزک آڈٹ کروایا جس میں 236 پائلٹس کے لائسنس مشکوک نکلے، پائلٹس لائسنسنگ کی مزید تحقیقات ہورہی ہیں جو چند دن میں سامنے رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 2018میں تحریک انصاف حکومت نے آتے ہی پی آئی اے اسکینڈل پر کارروائی شروع کی، جج ارشد ملک کیس میں دو فریق تھے، پیپلزپارٹی نے 7005 لوگ پی آئی اے میں بھرتی کیے جس کا حساب دینا ہوگا۔
شہباز گل نے کہا کہ دوسرے فریق مریم نواز اور ناصر بٹ ہیں، فیصلے کے بعد امید ہے کہ مریم اور ناصر بٹ کو بھی سزا مل سکتی ہے، سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ تو اعلیٰ عدلیہ ہی کرے گی۔