کوئٹہ : 70 ارب کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے انکشافات پر حکومت بلوچستان نے ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کرلیا ، ناقص کارکردگی پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 36 ایکسین و ایس ڈی اوز معطل اور68 انجینئرز کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
گزشتہ سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 70 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا، ان میں زیادہ تر منصوبوں پر محکمہ مواصلات وتعمیرات کے ذریعہ کام کرایا گیا ۔
ناقص کارکردگی پر حکومت بلوچستان نے ایکشن لیتے ہوئے محکمہ مواصلات وتعمیرات کے 36 ایکسین اور ایس ڈی اوز کو معطل کیا اور درجنوں انجینئرز کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
انکوائریزبھی جاری ہیں، ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت بلوچستان نے سخت ایکشن لے کرصوبائی سیکرٹریز کو بھی معطل کیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں ناقص اشیاء کے استعمال کی اطلاعات پر جب وفاقی حکومت نے 2017-18 کی 1100 ترقیاتی اسکیموں کی جانچ پڑتال وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم سے کرائی تو ان میں 400 اسکیمیں غیر معیاری نکلی تھیں۔
صوبائی حکومت نے گزشتہ سال پی ایس ڈی پی کے تحت مکمل کی گئیں 300 اسکیموں کی تحقیقات کرنے کیلئے بھی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے بلوچستان میں سول حکومتوں نے یہاں ترقیاتی کام زیادہ تر کاغذات تک ہی مکمل ہوتے رہے ہیں، اور جو کام زمین پر ہوتے ہیں ان کے ناقص معیار کے باعث یا تو مکمل نہ ہو سکے یا پھر جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
کرپشن کے باعث بلوچستان کے عوام صحت تعلیم، سڑکوں، پینے کے صاف پانی اور مناسب غذا سے محروم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ایکشن سے سرکاری افسران میں ایمانداری اور فرض شناسی کا جزبہ اجاگر ہونے اور ترقیاتی کاموں کے معیارمیں بہتری اور تیزی آنے کا امکان ہے۔