وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں تحریکِ انصاف کی وفاقی حکومت پے در پے نت نئی منازل طے کر رہی ہے جن میں معاشی استحکام، موڈیز کی مستحکم ریٹنگ اور اسٹاک ایکسچینج کے حوصلہ افزاء اعدادوشمار شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان معاشی لحاظ سے کتنا مستحکم ہوا؟ موڈیز کی مستحکم ریٹنگ سے کیا مراد ہے؟ اور اسٹاک ایکسچینج کے اعدادوشمار کیا واقعی کسی تبدیلی کا پتہ دیتے ہیں؟ آئیے ان سب معاملات کا جائزہ لیتے ہیں۔
معاشی استحکام
یہ لفظ معاشی استحکام کوئی سادہ سی اصطلاح نہیں کہ اس کا درست تجزیہ اتنا آسان ہو کیونکہ معاشی استحکام سے مراد حکومتی وزراء کے نزدیک وہ معاشی اشاریے ہیں جن کی بنیاد پر ملکی اقتصادیات کا دارومدار ہے جس کے مقابلے میں عام آدمی کی سوچ بے حد مختلف ہے۔
ایک عام انسان یہ سوچتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں مہنگائی اور ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں کم ہوئیں؟ تو معاشی اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکا اور حکومت کی طرف سے کیے جانے والے معاشی استحکام کے دعووں میں دراصل کوئی حقیقت نہیں ہے۔
مثال کے طور پر آج پٹرول سے لے کر چینی اور آٹے تک اور سبزیوں سے لے کر جان بچانے والی ادویات تک ہر چیز پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی ہے جس کی تفصیلات میں جانا فی الحال ہمارا موضوع نہیں۔
دوسری جانب معاشی استحکام سے مراد زرِ مبادلہ اور قرضوں کی صورتحال بھی ہے۔ حکومت قرض پر قرض ادا کرنے کیلئے مزید قرض لینے کی پالیسیوں پر عمل پیرا نظر آتی ہے، جس سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کی کوئی حقیقت اُس وقت سمجھ میں آسکتی ہے جب وہ پیسے پاکستان کے اپنے ہوں۔
موڈیز کی مستحکم ریٹننگ
حال ہی میں دُنیا بھر کی معیشت کی نگرانی کرنے والے ادارے اور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے مملکتِ خداداد پاکستان ی ریٹنگ کو مستحکم قرار دیا جس پر وزیرِ اقتصادی امور حماد اظہر نے مسرت کا اظہار کیا۔
قبل ازیں موڈی نے یہ کہا کہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں سے مالی مدد پاکستان کے اُس معاشی دھچکے کو کم کرسکتی ہے جو اسے کورونا وائرس سے پہنچا لیکن مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔
موڈیز انویسٹر سروس کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے مالیاتی خطرات قرض دہندگان کی طرف سے خاطر خواہ مالی اعانت کے باعث کم ہوئے ہیں جس سے موڈیز سے ملنے والی ریٹنگ کی بنیادوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے وزراء عالمی اداروں کی ریٹنگز کو عوام کی امنگوں کی ترجمانی سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ ریٹنگز اِس بنیاد پر جاری کی جاتی ہیں کہ کسی ملک میں ترسیلاتِ زر کتنی ہیں چاہے یہ قرض کی بنیاد پر ہوں یا حقیقی بنیادوں پر، اس سے عالمی اداروں کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مثبت اعدادوشمار
آج کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 136 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے جبکہ مارکیٹ میں 40 ہزار 29 پوائنٹس پر ٹریڈنگ جاری ہے۔
اگر ہم گزشتہ عرصے کی پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی دیکھیں تو مارچ کے دوران پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 27 ہزار پوائنٹس پر کاروبار جاری تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران کم و بیش 13 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت استحکام کی طرف بڑھتی ہے، لہٰذا پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا 40 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنا ایک مثبت علامت قرار دی جاسکتی ہے جس سے معاشی استحکام کی منزل کی طرف سفر شروع کیاجاسکتا ہے۔
قرضوں کی صورتحال
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران گزشتہ برس اِسی عرصے کے مقابلے میں مجموعی قرضے میں 7 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ مارچ 2020ء تک مجموعی قرض 35 ہزار 207 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ برس جون 2019ء کے اختتام پر پاکستان کا مجموعی قرض 32 ہزار 708 ارب روپے تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے مجموعی قرض میں مالی سال 2020ء کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 2 ہزار 499 ارب کا اضافہ ہوا۔
ڈالر اور سونے کی قیمتیں
آج سے 2 سال قبل یعنی مارچ 2018ء میں 1 امریکی ڈالر کی قیمت 110 روپے 62 پیسے تھی جو آج 167 روپے 90 پیسے پر پہنچ چکی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑانوں میں کمی نہیں بلکہ مزید تیزی آئی۔
سونے کی فی تولہ قیمت آج سے 2 سال قبل یعنی 3 اگست 2018ء کو 55 ہزار 600 روپے تھی جو آج 1 لاکھ 30 ہزار روپے ہے، گویا 2 سالوں کے دوران قیمت میں کم و بیش 74 ہزار 400 روپے کا اضافہ ہوا۔
حقیقت کیا ہے؟
جب ہم موڈیز کی ریٹنگ اور دیگر عالمی اداروں کی طرف سے حوصلہ افزاء تبصرے سنتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں اور ہماری خوشی بظاہر درست بھی ہوتی ہے لیکن حقیقت کیا ہے، یہ جان کر افسوس ہوتا ہے۔
اگر پاکستان تحریکِ انصاف کی وفاقی حکومت یا وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں واقعی کوئی معاشی استحکام آیا ہے یا نہیں تو ایک عام انسان کی زندگی کو دیکھیں۔
تنخواہ دار افراد کیلئے جینا مشکل ہوگیا ہے اور تحریکِ انصاف کی حکومت میں موجود وفاقی وزراء موڈیز کے مثبت اعدادوشمار پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر ضروریاتِ زندگی کی اشیاء سستی ہوں گی تو عوام بھی کہیں گے کہ واقعی کوئی معاشی استحکام آیا ہے۔
اس کے برعکس اگر غریب عوام پر عرصۂ حیات تنگ کیا جائے گا، پٹرول، ڈیزل، پھل اور سبزیوں سمیت ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی تو معاشی استحکام نام کی کوئی چیز نہیں آسکتی۔
حکومت کو چاہئے کہ معاشی اعدادوشمار کی تھپکیاں دینے کی بجائے سودی قرضوں پر انحصار کم کرے۔ ضروریاتِ زندگی کی اشیاء اسی وقت سستی ہوسکتی ہیں اگر قرضوں کی بجائے انحصار سرمایہ کاری پر ہو۔
پی ٹی آئی حکومت نے سرمایہ کاری کو ترجیح دی، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، تاہم ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر کسی بھی سطح پر قابو نہ پایا جاسکا جس کا خمیازہ عوام مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔