پاکستان سمیت دُنیا بھر میں آج عالمی یومِ خواندگی منایا جارہا ہے جس کا مقصد عوام الناس، نوجوانوں، بڑے بوڑھوں، سیاستدانوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں سمیت ہر انسان پر تعلیم کی اہمیت آشکار کرنا ہے۔
رواں برس کے آغاز میں ہی اقوامِ عالم کو کورونا وائرس کا سامنا کرنا پڑا جس کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن لگایا گیا جس سے کاروباری سرگرمیوں، عوامی اجتماعات اور میل جول کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی برا اثر پڑا۔
سوال یہ ہے کہ تعلیمی عمل جو ہماری زندگی کی بہتری، ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ہماری بقاء کیلئے بھی ضروری ہوجاتا ہے، عالمی برادری اس پر توجہ کیوں نہیں دے رہی اور کروڑوں لوگ جاہل کیوں ہیں؟
آج تعلیم کے بارے میں ایسے ہی مختلف سوالات کا جواب تلاش کرنے کیلئے ہم اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی تعلیم کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
دُنیا بھر میں تعلیم کی صورتحال اور کورونا وائرس
اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق دنیا بھر کے 77 کروڑ 30 لاکھ نوجوان اور بالغ افراد بنیادی تعلیمی مہارتوں سے محروم ہیں جبکہ تعلیمی عمل کو موجودہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے نافذ لاک ڈاؤن سے بے حد نقصان پہنچا۔
کورونا وائرس کے باعث دُنیا کے 190 سے زائد ممالک نے اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز ، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور مدرسوں سمیت دیگر تعلیمی ادارے بند کردئیے جس سے 1ارب 27 کروڑ افراد متاثر ہوئے۔
مذکورہ 1 ارب 27 کروڑ افراد میں ہمارے بچوں سے لے کر وہ نوجوان اور بالغ افراد بھی شامل ہیں جو محض تعلیمی قابلیت کو بڑھانے یا پیشہ ورانہ ترقی حاصل کرنے کیلئے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان میں شرحِ خواندگی کی تعریف اور اعدادوشمار
سن 2018ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں آج شرحِ خواندگی 72 اعشاریہ 5 فیصد بتائی جاتی ہے جس میں خواتین کی شرحِ خواندگی 51 اعشاریہ 8 فیصد ہے۔
صوبہ پنجاب میں 64اعشاریہ 7 فیصد، سندھ میں 62 اعشاریہ 2 فیصد، خیبر پختونخوا میں 55اعشاریہ 3 فیصد جبکہ بلوچستان میں 55 اعشاریہ 5 فیصد شرحِ خواندگی بتائی جاتی ہے تاہم یہ وہ شرحِ خواندگی ہے جو عالمی معیار کے مطابق نہیں۔
پاکستان میں شرحِ خواندگی سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ آپ انگریزی، اردو اور سندھی سمیت کسی بھیزبان میں کوئی اخبار یا میگزین اٹھا کر پڑھ سکیں، ایک سادہ خط تحریر کرسکیں اور ریاضی کی بنیادی جمع تفریق کرسکیں۔
ریاضی کی بنیادی جمع تفریق میں صرف گنتی اور جمع تفریق شامل ہے جو آج کل نرسری سے لے کر پرائمری کی سطح تک سکھا دی جاتی ہے بلکہ پرائمری کا ایک بچہ بھی اِس سے کہیں زیادہ علم رکھتا ہے جتنی خواندگی کی تعریف کی گئی۔
سب سے زیادہ شرحِ خواندگی رکھنے والے ممالک اور پاکستان
دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرحِ خواندگی رکھنے والے ممالک میں شمالی کوریا، یوکرین، ازبکستان، آذر بائیجان، کیوبا، اٹلی، سنگاپور، تاجکستان، چین، کرغزستان، پولینڈ، کروشیا، لیبیا، ترکی، مالدیپ اور کویت شامل ہیں جہاں شرحِ خواندگی 99 اعشاریہ 2 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک ہے۔
عالمی برادری میں شرحِ خواندگی کے اعتبار سے 143 ویں نمبر پر موجود پاکستان کے ساتھ موجود دیگر ممالک کی بات کی جائے جن کی شرحِ خواندگی وطنِ عزیز سے ملتی جلتی ہے تو ان میں یمن، انگولہ، ملاوی اور موزنبیق شامل ہیں جن کی شرحِ خواندگی بالترتیب 77، 77 اعشاریہ 4، 72 اعشاریہ 9 اور 70 اعشاریہ 5 فیصد ہے۔
ملک میں تعلیم کیلئے بجٹ کی صورتحال اور دیگر ممالک
جب ہم تعلیم کیلئے بجٹ کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے سن 2017ء میں جی ڈی پی کا 2 اعشاریہ 8995 فیصد تعلیم پر خرچ کیا۔
ورلڈ بینک سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق سن 2006 سے لے کر سن 2018ء تک یعنی موجودہ حکومت کی ابتدا تک تعلیم پر جی ڈی پی کے 2 فیصد سے لے کر 3 فیصد تک ہی خرچ کیا گیا۔ یہ عدد کبھی3 فیصد سے زیادہ نہ ہوسکا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








