اسلام آباد :ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان پر تشدد کے حوالے سے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے ملک ظفر کھوکھر صدر نے کہا ہے کہ ایم پی اے عابدہ راجہ کے خاوند کو بچانے کیلئے حکومت متحرک ہو گئی ہے۔
ملزم کو گرفتار نہ کرنے کیلئے پولیس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ،سات دن میں اگر چوہدری خرم کو گرفتار نہ کیا گیا تو عدلیہ کے وقار اور وفاقی دارالحکومت میں قانون کے نفاذ کیلئے تحریک چلائیں گے ۔
رواں ماہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان اور پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی عابدہ راجہ کے خاوندچوہدری خرم کے مابین شاہراہ دستور پر پیٹرول پمپ میں جھگڑے کے دوران فائرنگ کے معاملہ پر ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان کے وکلاء، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک ظفر کھوکھر ، نصیراحمد کیانی ،ممبر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ، چوہدری خانزادہ خان سابق صدر بار ایسوسی ایشن ، بلال مغل ، شاہد شیخ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جج صاحب نے خود کا دفاع کرنے کیلئے ہوائی فائر کیا تھا ۔
سی سی ٹی وی کیمرہ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایم پی اے کے خاوند حملہ ٓور ہوئے تھے ، جج صاحب کی جانب سے اسلحہ کا لائسنس بھی متعلقہ تھانے میں پیش کیا گیا ۔
جج صاحب کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے ، حکومتی پارٹی کی ایم پی اے بندوں کے ہمراہ تھانے میں آ کر پولیس پر دباؤ ڈالتی ہیں اور واقع کے دوسرے روز مقدمے کا اندراج کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو غیر سیاسی ہوتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی بروئے کار لانی چاہیے ، قانون کی جنگ اگر ہم سیاستدانوں کے دفاع میں لڑ سکتے ہیں تو پھر اپنے دفاع کیلئے بھی لڑ سکتے ہیں۔
وکلاءکا مزید کہنا تھا کہ دارالخلافہ میں اگر جج محفوظ نہیں تو عام آدمی کیلئے کیا توقعات کی جاسکتی ہیں ، وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس واقع کا نوٹس لیں ۔
حکومت اور پولیس کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ چوہدری خرم کو گرفتار کریں ورنہ ہمارے پاس دیگر راستے بھی ہیں ، بہت سے آپشن زیر غور لائے جاسکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں درس دفعات نہیں لگیں، ایک ہفتہ میں اگر حکومت قانون کے مطابق مقدمے کو یکسو نہیں کرے گی تو عدلیہ کے وقاراور قانون کے نفاذ کیلئے تحریک چلائیں گے۔