اسلام آباد:ضلع ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے بزرگ شہری قادر خان بلوچ نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں 18 سال سعودی عرب میں کام کرتا رہا وہاں سے جو کمائی کی تھی راولپنڈی کمیٹی چوک میں گیارہ دکانیں خریدیں اور عمرہ و حج کی ٹریول ایجنسی بنائی۔
بزرگ شہری قادر خان بلوچ کے مطابق میری سالانہ آمدن تقریباً تین سے چار کروڑ روپے تھی،پھر میرا برا وقت شروع ہو گیا 2003 میں میرے اوپر کیس بنایا گیا تھا 2003 میں عبدالحمید صدیقی کا اسٹام بھی تیار ہوا اورمیرے اوپر الزام لگایا گیا کہ میں غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو باہر بھیجتا ہوں۔
یہ کیس ایف آئی اے کا بنتا تھا جبکہ میرے حاسدین نے نیب کے ساتھ سازباز کر کے میرے اوپر نیب کا کیس بنا ڈالا، جب مجھے گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد عبد الحمید صدیقی اور اس کے دیگر ساتھیوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی کاغذات تیار کروائے اور میری ٹریول ایجنسی اور گیارہ دکانوں پر ملی بھگت سے قبضہ کر لیا۔

کیس عدالت میں زیر سماعت رہا اس دوران میرا بڑا بیٹا اس کیس سے بری ہو گیا جبکہ مجھے پانچ سال کی قید سنائی گئی،پھر میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی میری اپیل کو کورٹ نے منظور کرتے ہوئے مجھے باعزت بری کردیا،میری تمام جمع پونجی عبد الحمید صدیقی اور اس کے دیگر ساتھی ہڑپ کر چکے تھے۔

بزرگ شہری قادر خان بلوچ نے کہا کہ میں نے جیل سے واپس آ کر دوبارہ کیس فائل کیا کہ عبدالحمید صدیقی نے اپنے ساتھیوں سے مل کر میری جائیداد اور کاروبار پر قبضہ کر لیا ہے اور جعلی رجسٹری اپنے نام کی تیار کروا لی ہیں تو عدالت نے ٹرائل ہونے کے بعد میرے حق میں فیصلہ دے دیا،میرے حق میں فیصلہ آنے کے باوجود مجھے ابھی تک قبضہ نہیں ملا۔

19-03-2019کو عدالت عالیہ نے آرڈر دیا تھا کہ قادر خان بلوچ کی جائیداد کا قبضہ واگزار کرا کر پراپرٹی قادر خان بلوچ کو دے دی جائے لیکن متعلقہ ڈی ایس پی کی ملی بھگت سے میں آج تک ذلیل و خوار ہو رہا ہوں،میں آجکل بھیک مانگتا ہوں،میرے پاس جو کچھ تھا ان ظالموں نے سب کچھ لوٹ لیا اور مجھے در بدر کر دیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








