کراچی :چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت فوتی کوٹہ (دوران ملازمت انتقال کر جانے والے ملازمین کے لواحقین کی کوٹہ)پر عملدرآمد کے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات و ورکس اینڈ سروسز عمران عطا سومرو، سیکریٹری خوراک عبدالحلیم شیخ، سیکریٹری قانون منصور عباس رضوی، سیکریٹری سروسز ڈاکٹر سیف الحمان، سیکریٹری فاریسٹ ڈاکٹر بدر جمیل میندھرو نے شرکت کی۔
فوتی کوٹہ عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس میں مختلف محکموں کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ فوتی کوٹہ عملدرآمد میں 2019 سے اب تک 4423 ملازمتوں کی منظوری ہوئی ہے۔
اجلاس میں مختلف محکموں میں 394 ملازمتوں کی منظوری دے دی گئی جن میں محکمہ اسکول ایجوکیشن میں 236، صحت کے 31، آبپاشی کے 26 اور بلدیات میں 15، محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں 18، زراعت میں 17، کالج ایجوکیشن میں 7، لائیو اسٹاک میں 13، خوراک میں 4 ملازمتوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے جن ملازمتوں کی منظوری دی ہے ان کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے سیکریٹریز نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں ڈسٹرکٹ رکروٹمنٹ کمیٹی وقت پر نا ہونے کی وجہ سے بہت سے کیسز تاخیر کا شکار ہیں۔
چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈی آر سی کے اجلاس بلا کر فوتی کوٹہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہونے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں منعقد کی گئی ڈی آر سی رپورٹ پیش کریں۔
چیف سیکریٹری سندھ نے مزہد کہا کہ جن ملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں ہوئے یا ڈی آر سی میں تاخیر ہے ،تفصیلات فراہم کی جائے۔
ممتاز علی شاہ نے تمام سیکریٹری فوتی کوٹہ، ملازمین کی ریگیولر ہونے کے معاملات سمیت معزور افراد کے کوٹہ پر بھرتیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہداہت کی۔