کراچی : شہر قائد میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا، گرانفرشوں نے عوام کی چیخیں نکلوادیں،کمشنر کراچی ریٹ لسٹیں جاری کرکے مہنگائی سے بری الزمہ، دودھ، سبزی سمیت تمام اشیاء خوردونوش عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئیں۔
کمشنر کراچی پرائس کنٹرول کے حوالے سے صرف سرکاری نرخ نامہ یومیہ بنیاد پر جاری کر کے اپنی ذمہ داری پوری کردیتے ہیں لیکن غریب عوام کو یومیہ بنیاد پر جاری سرکاری نرخ پر کوئی بھی اشیاء دستیاب نہیں ہیں۔
یہ سلسلہ گزشتہ 2 سال قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب ڈیری فارمرز نے من مانی قیمتوں پر دودھ کی فروخت شروع کی تو کمشنر کراچی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے ان سے ساز باز کر کے غیر اعلانیہ دودھ 110روپے فروخت کرنے کی اجازت دے دی تاہم خود کمشنر نے دودھ کی قیمت 94 روپے مقرر رکھی ہے۔
بعد ازاں امسال دودھ 120روپے میں فروخت ہونے لگا ہے تاہم کمشنر نے دودھ کے نرخ 94 روپے ہی مقرر رکھے ہیں، اس ساز باز میں ضلعی انتظامیہ کو ڈیری فارمرز کی جانب سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے ماہانہ ادا کیے جارہے ہیں، اس کے بعد تو کریانہ اور سبزی کے تھوک فروشوں نے بھی اسی طرح مہنگائی کرنے کے عوض لاکھوں روپے ماہانہ بنیاد پر ضلعی انتظامیہ کو ادائیگی شروع کردی ہے۔
کمشنر کراچی کی ریٹ لسٹ میں مرغی گوشت 214روپے کلومقرر ہے مگر شہر میں کہیں بھی مرغی کا گوشت 400 سے 350روپے کلو سے کم فروخت نہیں ہو رہا ۔کمشنر کراچی کو معلوم نہیں کہ شہر میں انڈا فارمی 200 روپے درجن فروخت ہو رہا ہے مگر ان کی فہرست میںآج بھی انڈ ہ82روپے درجن فروخت ہو رہا ہے۔