کراچی:ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین کا کہنا ہے کہ آٹے، چینی اور سبزیوں کی قیمتوں میں معمولی کمی کے بعدملک میں گھی،کوکنگ آئل اور پولٹری کا بحران شروع ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جنھیں کنٹرول کرنے کے لئے انتظامی اقدامات کے ساتھ پام آئل کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ختم کی جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف دیا جا سکے۔
میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گھی اور کوکنگ آئل کے شعبے پر اس وقت تک ٹیکس بھی کم کئے جائیں جب تک عالمی منڈی میں خام مال کی قیمت اعتدال پر نہیں آجاتی کیونکہ یہ 22کروڑ عوام کی فوڈ سیکیورٹی کا معاملہ ہے جو پہلے ہی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں زبردست اضافے سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئل کا فی کس استعمال پہلے ہی بین الاقوامی اوسط سے بہت کم ہے اور موسم سرما میں اسکی قیمت میں اضافہ غریب عوام کے لئے بڑا مسئلہ ثابت ہو گا۔
موسم سرما میں پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ بھی بد قسمتی ہے جس سے نمٹنے کے لئے سویابین کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کی جائے اور سستی مکئی درآمد کرنے کی کوشش کی جائے۔گزشتہ سال مافیا نے مکئی کے کاشتکاروں سے نصف قیمت میں فصل خریدکر انکا استحصال کیا۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو1400 روپے من کے بجائے 700 روپے من تک ادائیگی کی گئی جس سے آڑھتیوں اور پولٹری فیڈ کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی ہو گئی مگر کسانوں کے فصل اگانے کی اخراجات بھی پورے نہیں ہوئے اور وہ زندہ رہنے کے لئے قرضے لینے پر مجبور ہو گئے۔
مکئی کے شعبے میں بدانتظامی،امدادی قیمت کے نہ ہونے اور مافیا کو دی جانے والی کھلی چھوٹ کی وجہ سے مکئی کے بدحال کاشتکاروں نے چاول اور دیگر فصلیں اگانا شروع کر دیں جسکے نتیجے میں ملک میں مکئی کی شارٹیج ہو گئی ہے۔
اب مقامی مارکیٹ میں مکئی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کا اثر پولٹری کی قیمت پر بھی پڑ رہا ہے جبکہ منافع خوری بھی جاری ہے جس سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم کو بروقت سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔