جرمنی کا معتبر ترین اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاکستانی سائنسدان شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

جرمنی کا معتبر ترین اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاکستانی سائنسدان شامل
جرمنی کا معتبر ترین اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاکستانی سائنسدان شامل

جرمنی:جرمنی کا معتبر ترین اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاکستانی سائنسدان کو شامل کرلیا گیا، سیل بائیولوجی میں ایپیجینیٹک جین کے طریقہ کار سے متعلق تسلیم کردہ تحقیق کرنے والی پاکستانی نژاد آصفہ اختر کو جرمنی کے لیبنز پرائز کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبنیز پرائز جرمنی کے معتبر ترین اعزازات میں سے ایک ہیں۔جرمنی کی میکس پلانک سوسائٹی جو ایک بنیادی تحقیق اور سائنسی ادارہ ہے کی جانب سے یہ خبر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جہاں آصفہ اختر پہلی بین الاقوامی نائب صدر کی خدمات سرانجام دی رہی ہیں۔

انہوں نے پوسٹ کیا کہ ہم بہت پُرجوش ہیں کہ میک پلانک پریس کے 2 سائنسدان لیبنز پرائز کے وصول کنندگان میں شامل ہیں۔پوسٹ میں کہا گیا کہ ان میں ایم پی آئی آف امیونولیوجی اینڈ ایپی جینیٹکس کی نائب صدر آصفہ اختر اور ایم آئی فار ایسٹروفزکس کے وولکر اسپرنگل شامل ہیں۔

سب سے بڑی بات یہ کہ گوڈفریڈ ولہیلم لیبنز پرائز کو جرمنی کا اہم ترین تحقیقی ایوارڈ مانا جاتا ہے جس میں فاتحین کو فی کس زیادہ سے زیادہ 25 لاکھ یورو (49 کروڑ روپے سے زائد) بطور انعام دیے جاتے ہیں۔

آصفہ اختر کراچی میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے 1997 میں برطانیہ کے شہر لندن میں امپیریئل کینسر ریسرچ فنڈ سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔جس کے بعد وہ جرمنی چلی گئی تھیں جہاں انہوں 1998 سے 2001 تک میونخ میں ایڈولف-بٹنینڈ-انسٹی ٹیوٹ اور ہیڈل برگ میں یورپین مالیکیولر بائیولوجی لیبارٹری (ای ایم بی ایل) میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی۔

آصفہ اختر نے 2008 میں ارلی کیریئر یورپین لائف سائنس آرگنائزیشن ایوارڈ حاصل کی، 2013 میں ای ایم بی او کی رکنیت اور 2017 میں فیلڈ برگ پرائز حاصل کیا۔اس کے علاوہ وہ 2019 میں نیشنل اکیڈمی آف سائنس لیپولڈینا کی رکن بھی منتخب ہوئی تھیں۔جرمنی کا معتبر ترین اعزاز حاصل کرنے پاکستانی خاتون کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

Related Posts