کراچی :سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے شکار پور سے دو لڑکیوں کی عدم بازیابی پر ایس ایس پی شکار پور اظہار برہمی کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کو دو ماہ میں بازیاب کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شکار پور سے دو لڑکیوں کے اغوا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، کئی سال گزرنے کے باوجود لڑکیوں کی عدم بازیابی پر عدالت نے ایس ایس پی شکار پور کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کے سندھ پولیس دو بچیوں کو بازیاب نہیں کراسکی شرم کی بات ہے نااہلی کی انتہا ہے اتنی سال گزر گئے آپ بچیوں کو بازیاب نہیں کراسکے۔
عدالت نے ریمارکس میں مزید کہا کہ ہم نے پولیس کو اپاہج بنادیا پولیس چاہے تو سب کرسکتی ہے ایس ایس پی صاحب کبھی خود کو ان بچیوں کا باپ تصور کر کے دیکھیں روایتی رپورٹ بناکر لے آتے ہیں آپ کو شہریوں کا ذرا بھی خیال نہیں۔
جس پر ایس ایس پی شکار پورنے موقف اپنایا کہ ہم نے کوشش کی ہے مزید مہلت مل جائے تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں جس پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کے اتنے سال گزر گئے آپ کو مزید مہلت چاہئے ذرا سوچیں وہ لڑکیاں ہیں انسان ہیں نہ جانے کس حال میں ہوں گی،عدالت نے لڑکیوں سعدیہ اورکلثوم عرف منگلی کو دو ماہ میں بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔